مجلسی قیادت راہول گاندھی اور ریونت ریڈی سے خوفزدہ کیوں؟

,

   

مسلمانوں پرکنٹرول ختم، کے سی آر سے کئے گئے وعدہ کی فکر، ریونت ریڈی کے سوالات کا جواب دینے کے بجائے الزام تراشی

حیدرآباد۔/21نومبر، ( سیاست نیوز) حیدرآباد کی مقامی سیاسی جماعت آخر کانگریس پارٹی اور ریونت ریڈی سے اس قدر خوفزدہ کیوں ہے؟ تلنگانہ کے سیاسی حلقوں اور عوام کے درمیان یہ سوال موضوع بحث بنا ہوا ہے کہ آخر اویسی برادرس اپنے ’ماموں‘ کی تیسری مرتبہ کامیابی کیلئے ریونت ریڈی اور کانگریس کو نشانہ بنارہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق تلنگانہ میں کانگریس کی بڑھتی لہر نے مجلس اور اس کی قیادت کو خوفزدہ کردیا ہے اور راہول گاندھی نے تلنگانہ کے دوروں کے موقع پر بی آر ایس، بی جے پی اور مجلس کی مبینہ مفاہمت کو بے نقاب کرتے ہوئے مسلمانوں کے درمیان مجلس کی ایمانداری سوال پر کھڑا کردیا ہے۔ دوسری طرف ریونت ریڈی جس تیزی سے عوام کے درمیان مقبول ہوئے ہیں اور مسلمان بھی تبدیلی کے موڈ میں دکھائی دے رہے ہیں۔ کانگریس اور ریونت ریڈی کی بڑھتی مقبولیت سے تلنگانہ میں مسلم رائے دہندوں پر مجلس کی گرفت کمزور ہوچکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مجلسی قیادت نے اپنی کمزوری کو ظاہر ہونے سے بچانے کیلئے حیدرآباد کے علاوہ کسی اور ضلع میں الیکشن میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انتخابی ماحول کے آغاز پر اس بات کے اشارے دیئے جارہے تھے کہ مجلس 25 نشستوں پر مقابلہ کرے گی۔ ظاہر ہے کہ شہر کی 7 موجودہ اسمبلی نشستوں کے علاوہ کسی اور حلقہ میں مجلس کا ووٹ بینک نہیں ہے اور مجلس کے مقابلہ کی صورت میں ووٹوں کی تقسیم کا راست طور پر فائدہ بی آر ایس اور بی جے پی کو ہوسکتا تھا لیکن مجلسی قیادت نے جب یہ محسوس کرلیا کہ مسلمانوں پر ان کی گرفت کمزور ہوچکی ہے تو الیکشن میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے عافیت محسوس کی ورنہ مقابلہ کی صورت میں مجلس کی مقبولیت کا پول کھل جاتا۔ بی آر ایس کے سربراہ اور چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو گذشتہ دس برسوں تک یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ مسلمان ان کے اشارہ پر کسی کی تائید یا مخالفت کرسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چیف منسٹر کے سی آر نے 2018 اسمبلی چناؤ اور 2019 لوک سبھا چناؤ کی طرح اس مرتبہ بھی مسلم ووٹ کیلئے مجلسی قیادت پر انحصار کیا۔ اضلاع میں جب چیف منسٹر اور بی آر ایس قائدین نے یہ محسوس کرلیا کہ مسلمان مجلس کے ہاتھ سے نکل چکے ہیں لہذا کے سی ار کی جانب سے دباؤ بڑھنے لگا ہے جس کے نتیجہ میں اویسی برادرس ریونت ریڈی اور کانگریس کو نشانہ بنارہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اسمبلی چناؤ میں مسلم رائے دہندوں کی اکثریت کا جھکاؤ کانگریس کی طرف رہے گا۔ بی آر ایس نے انتخابی امکانات کے بارے میں جو سروے کرایا ہے اس میں بھی مسلم ووٹ سے محرومی کی پیش قیاسی کی گئی ہے۔(سلسلہ صفحہ5پر)