مسلمانوں کے ووٹ کو تقسیم ہونے سے بچانے مذہبی شخصیات کا مشورہ
حیدرآباد۔26۔اکٹوبر(سیاست نیوز) مجلس اتحاد المسلمین شہر کے حلقہ جات اسمبلی کے علاوہ کسی اور ضلع میں مقابلہ سے گریز کرے تاکہ مسلمانوں کے ووٹ کو تقسیم سے بچاتے ہوئے کانگریس کی کامیابی کو یقینی بنایا جاسکے۔ مسلم اکابرین بالخصوص اضلاع سے تعلق رکھنے والی مسلم تنظیموں کے ذمہ داران اور مجلسی قیادت سے بے تکلف مذہبی شخصیات کی جانب سے یہ مشورہ دیا جا رہاہے کہ وہ ریاست میں مسلم ووٹ کو منقسم ہونے سے بچانے میں اپنا کردار ادا کریں اور اسمبلی میں مسلم نمائندوں کی تعداد میں اضافہ کی حکمت عملی پر عمل کیا جائے۔ مجلس اتحادالمسلمین نے ابھی اس بات کا اعلان نہیں کیا ہے کہ تلنگانہ میں کن حلقہ جات اسمبلی سے مقابلہ کرے گی اور کتنے امیدوار میدان میں اتارے جائیں گے۔ذرائع کے مطابق علماء و اکابرین نے بیرسٹر اسدالدین اویسی سے ملاقات کے دوران یہ مشورہ دیا کہ وہ ریاست میں کانگریس کے اقتدار کو یقینی بنانے کے لئے ووٹوں کی تقسیم کے مرتکب نہ بنیں اور ممکنہ حد تک اپنے دائرہ کار کو شہر حیدرآباد کی نشستوں تک محدود رکھیں کیونکہ اگر شہر حیدرآباد کے علاوہ دیگر حلقہ جات اسمبلی سے مقابلہ کرتے ہیں تو ایسی صورت میں کانگریس کو نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔ جمعیتہ علمائے ہند اور دیگر کئی مذہبی تنظیموں نے قومی سطح پر سیکولر اتحاد کو مستحکم بنانے کی جو مہم شروع کی ہے اس مہم کے حصہ کے طور پر کئی علماء اور تنظیموں کے ذمہ داروں کی جانب سے تلنگانہ میں کانگریس کی تائید کا فیصلہ کیا گیا ہے لیکن بعض اخباری بیانات اور تشہیری مہم کا حصہ رہنے والے نام نہاد ذمہ داران اور عمائدین اب بھی بھارت راشٹرسمیتی کی تائید کے لئے راہیں تلاش کرنے میں مصروف ہیںکیونکہ گذشتہ 9 برسوں کے دوران ان ذمہ داروں نے سیاسی نامزد عہدوں سے استفادہ کے علاوہ دیگر فوائد حاصل کئے ہیں جس کے عوض میں وہ ایک مرتبہ پھر سے کے چندر شیکھر راؤ کو چیف منسٹر بنانے کی کوشش کا حصہ بننے کی تیاری کر رہے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ مجلس کو شہر کی حد تک انتخابات میں حصہ لینے کا مشورہ دینے والی تنظیموں کے ذمہ داروں اور علماء و اکابرین نے واضح کیا ہے کہ کرناٹک اسمبلی انتخابات کے طرز پر تلنگانہ میں مسلم ووٹ متحدہ طور پر کانگریس کے حق میں استعمال کئے جائیں گے۔ بیرسٹراسدالدین اویسی صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین سے اپیل کرنے اور انہیں مشورہ دینے والے ذمہ داران کے مطابق ریاستی اسمبلی انتخابات میں بی آر ایس کی شکست کو یقینی بنانے اور بی جے پی کو استحکام حاصل کرنے سے روکنے کے لئے ضروری ہے کہ تلنگانہ میں کانگریس کے اقتدار کو یقینی بنایا جائے ۔ مجلس اتحاد المسلمین کی جانب سے گذشتہ اسمبلی انتخابات میں جملہ 8امیدوار میدان میں اتارے گئے تھے جن میں بہادر پورہ‘ کاروان‘ چارمینار ‘ یاقوت پورہ‘ ملک پیٹ‘ چندرائن گٹہ ‘ نامپلی کے علاوہ راجندر نگر حلقہ جات اسمبلی شامل تھے ۔اس سے قبل مجلس نے 2014 اسمبلی انتخابات میں تلنگانہ کے 20حلقہ جات اسمبلی سے مقابلہ کیا تھا جن اوپر تذکرہ کئے گئے 8 حلقہ جات اسمبلی کے علاوہ ابراہیم پٹنم‘ بھونگیر‘ پٹن چیروو‘ ملکا جگری‘ اپل‘ شیری لنگم پلی ‘ قطب اللہ پور‘ سکندرآباد‘ مشیرآباد‘ عنبر پیٹ‘ نظام آباد (اربن) اور جوبلی ہلز شامل تھے۔بتایاجاتا ہے کہ تلنگانہ میں گذشتہ اسمبلی انتخابات کے دورا ن مجلس نے اس وقت کی تلنگانہ راشٹرسمیتی سے انتخابی مفاہمت کرتے ہوئے ریاست میں محض 8 نشستوں پر مقابلہ کرتے ہوئے ٹی آر ایس کی کامیابی کی راہ ہموار کی تھی لیکن اب بھارت راشٹرسمیتی کی بھارتیہ جنتا پارٹی سے بڑھتی ہوئی قربت کو دیکھتے ہوئے اسی منصوبہ پر عمل کرنا چاہئے اور سیکولر ووٹ اور مسلم ووٹ کوتقسیم سے بچانے کے لئے مجلس کو اپنی نشستوں پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے ۔