مجلس بلدیہ عادل آباد کا اجلاس، کونسلرز کا احتجاج

   


کمشنر سے بحث و تکرار ،ترقیاتی کام ٹھپ ہونے کا الزام مسترد: صدرنشین بلدیہ

عادل آباد /25 ڈسمبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) صدرنشین مجلس بلدیہ عادل آباد مسٹر جوگو پرمیندر نے اپنے چیمبرس میں میڈیا سے مخاطب ہوکر مختلف سیاسی جماعتوں کے بلدیہ کونسلرز کی جانب سے عائد کردہ الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ عادل آباد بلدیہ کے 49 وارڈس ترقیاتی و تعمیراتی کاموں کا سلسلہ جاری ہے۔ بلدیہ کونسلرز کے بیانات کو مستردکرتے ہوئے اس کو بے بنیاد قرار دیاجبکہ اس موقع پر نائب صدر مجلس بلدیہ مسٹر ظہیر رمضانی بھی موجود تھے۔ قبل از عادل آباد مجلس بلدیہ کا اجلاس ایک ایجنڈہ پر مشتمل منعقد ہوا جس میں شہر کے قلب سے گذرنے والی ریلوے لائن جس کے بنا ہر مقامی اور غیر مقامی افراد کو آمد و ورفت میں دشواریاں پائی جارہی ہیں جس کے پیش نظر مرکزی و ریاستی حکومت کی جانب سے 97.20 کروڑ روپئے تا سی سی اسٹانڈ ریلوے لائین پر انڈر بریج ( زیر زمین راستہ ) اور قدیم ٹائلڈہ کمپنی تا ایل آئی سی تک ریلوے لائین کے اوپر اور برج تعمیر کیلئے محکمہ آر اینڈ بی کو منظوری دیتے ہوئے صدرنشین بلدیہ اور کمشنر بلدیہ پر الزام عائد کیا کہ وہ عوامی مسائل کو سماعت کرنے سے قاصر ہیں ۔ احتجاجی کونسلرز نے سرکاری و غیر سرکاری عہدیداروں پر الزام عائد کیا کہ عادل آباد بلدیہ حدود کے مختلف محلہ جات میں ترقیاتی و تعمیراتی کام ٹھپ پڑے ہوئے ہیں۔ جس کے بناء پر مقامی افراد کو کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ عوامی مسائل کو حل کرنے کی غرض ماہانہ ایک مرتبہ منعقد ہونے والے بلدیہ اجلاس میں عوامی مسائل پر توجہ دینے سے گریز کیا جارہا ہے ۔ احتجاجی بلدیہ کونسلرز نے کچھ دیر کیلئے کمشنر بلدیہ کو اجلاس کے باہر جانے سے روکے رکھا ۔