مجلس نے مہاراشٹرا میں بی جے پی کو 21 نشستوں پر مدد کی

   

دونوں ریاستوں میں کانگریس کا بہتر مظاہرہ، سابق وزیر محمد علی شبیر کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔ 25 اکٹوبر (سیاست نیوز) سابق وزیر محمد علی شبیر نے کہا کہ مہاراشٹرا اور ہریانہ میں کانگریس نے بہتر مظاہرے کے ذریعہ اپنی واپسی کی ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ بی جے پی حکومت کی ناکامیوں سے عوام عاجز آچکے ہیں اور وہ کانگریس کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے دفعہ 370 اور دیگر حساس موضوعات کے ذریعہ عوام کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن عوام نے نفرت کے ایجنڈے کو مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ گجرات میں 6 اسمبلی نشستوں کے ضمنی چنائو میں کانگریس نے 3 پر کامیابی حاصل کی جو گجرات میں اس کا بہتر مظاہرہ ہے۔ آنے والے دنوں میں کانگریس ملک بھر میں اپنی واپسی کرے گی۔ انہوں نے حضورنگر میں سرکاری مشنری کے استعمال کے ذریعہ ٹی آر ایس کی کامیابی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ دولت اور شراب کے بے دریغ استعمال کے ذریعہ عوام کو ٹی آر ایس کے حق میں ووٹ دینے کے لیے مجبور کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں وبائی امراض میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے لیکن چیف منسٹر کو کوئی فکر نہیں۔ کھمم میں ایک خاتون مجسٹریٹ ڈینگو کے باعث فوت ہوچکی ہیں۔ محمد علی شبیر نے ہائی کورٹ کی جانب سے وبائی امراض کے مسئلہ پر حکومت کی ناکامی پر اظہار ناراضگی کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی سی ایک منظم تنظیم ہے اور وہ کے سی آر کی جاگیر نہیں۔ اس ادارے کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے چیف منسٹر پر آر ٹی سی ملازمین کی توہین کا الزام عائد کیا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ مہاراشٹرا کے انتخابات میں مجلس نے بی جے پی اور شیوسینا کی 21 نشستوں پر مدد کی ہے۔ انہوں نے صدر مجلس اسدالدین اویسی کو دو نشستوں پر کامیابی کے لیے مبارکباد دی اور کہا کہ مہاراشٹرا کے باقی حلقوں میں 44 نشستوں پر مقابلہ کرتے ہوئے 21 نشستوں پر بی جے پی اور شیوسینا کو فائدہ پہنچایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مجلس کے مقابلہ کرنے سے کئی سکیولر امیدوار معمولی ووٹوں کے فرق سے ہارگئے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ مجلس کی مساعی کے باوجود کانگریس اور این سی پی نے 19 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹی جماعتیں جیسے مجلس کسی بھی ریاست میں ایک دو نشستیں جیت سکتی ہیں لیکن وہ حکومت تشکیل نہیں دے سکتے۔ یہ جماعتیں اپنے امیدواروں کے ذریعہ بی جے پی اور شیوسینا کو فائدہ پہنچا رہے ہیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ اویسی ووٹ کٹوا کا رول ادا کرتے ہوئے اپنے مفادات کی تکمیل کررہے ہیں۔