مجلس کا 25 اسمبلی حلقوں سے مقابلہ کا امکان ، سیکولر ووٹ کی تقسیم کا اندیشہ

   

بی جے پی فائدہ حاصل کرنے کوشاں، 40 اسمبلی حلقہ جات میں اقلیتی رائے دہندوں کا فیصلہ کن موقف
حیدرآباد30اکتوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی معلق اسمبلی کے انتظار میں ہے تاکہ تشکیل حکومت میں بادشاہ گر کا رول ادا کیا جائے۔ موجودہ صورتحال میں بی جے پی بہتر مظاہرہ کے موقف میں نہیں ہے لیکن اسے سیکولر ووٹ کی تقسیم سے فائدہ کی امید ہے ۔ تلنگانہ میں چند ماہ قبل تک جو صورتحال تھی، اسی میں بی جے پی تشکیل حکومت کیلئے اپنی دعویداری پیش کر رہی تھی لیکن کانگریس کے گراف میں اضافہ سے بی جے پی تیسری مقام پر پہنچ چکی ہے ۔ تشکیل حکومت تو دور ، بی جے پی کے پاس 119 حلقہ جات کیلئے موزوں امیدوار دستیاب نہیں۔ ان حالات میں بی جے پی معلق اسمبلی کی امید کر رہی ہے تاکہ ریاستی سیاست میں اہم رول ادا کرسکے ۔ تلنگانہ میں تقریباً 40 اسمبلی حلقے ایسے ہیں جہاں اقلیتی ووٹرس کی قابل لحاظ تعداد ہے اور ان کی متحدہ ووٹنگ کسی بھی امیدوار کو کامیاب بناسکتی ہے۔ اگر ان حلقہ جات میں سیکولر ووٹ تقسیم ہوجائیں تو اس کا راست فائدہ بی جے پی کو ہوگا۔ بی جے پی اپنے طور پر سیکولر ووٹ تقسیم نہیں کرسکتی ، لہذا اس کی نظریں بی آر ایس ، کانگریس اور مجلس پر ٹکی ہیں۔ یہ تینوں پارٹیاں اقلیتوں کے ووٹ بینک پر اپنی دعویداری پیش کرتی ہیں۔ اگر 40 اسمبلی حلقہ جات میں سیکولر ووٹ تقسیم ہوتے ہیں اور وہاں بی جے پی کا مضبوط امیدوار ہو تو یقینی طور پر اسے فائدہ پہنچے گا۔ بی آر ایس اور بی جے پی کی اقلیتی ووٹ بینک پر دعویداری اپنی جگہ لیکن بی آر ایس کی حلیف مجلس سے 25 اسمبلی حلقہ جات پر مقابلہ کی قیاس آرائی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ شہر کے علاوہ مختلف اضلاع سے مجلس کے ٹکٹ پر مقابلہ کیلئے کئی خواہشمند امیدوار پارٹی قیادت سے رجوع ہورہے ہیں۔ عادل آباد ، نرمل ، نظام آباد ، محبوب نگر ، کاما ریڈی ، نلگنڈہ اور رنگا ریڈی کے کئی اسمبلی حلقہ جات سے مجلس کے امیدوار کھڑا کرنے مقامی سطح پر مطالبہ زور پکڑ رہا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق مجلسی قیادت اس مرتبہ روایتی 8 اسمبلی حلقہ جات کے بجائے 25 نشستوں پر مقابلہ کی تیاری کر رہی ہے اور مختلف اضلاع سے رپورٹس طلب کی گئیں تاکہ پارٹی امیدواروں کی کامیابی کے امکان کا جائزہ لیا جاسکے۔ ذرائع کے مطابق اندرون ایک ہفتہ اس پر قطعی فیصلہ کیا جائے گا۔ میڈیا کے مختلف گوشوں میں مرکز کی جانب سے 25 نشستوں پر مقابلہ کی اطلاعات سے بی جے پی حلقوں میں خوشی کی لہر دیکھی جارہی ہے ۔ بی جے پی قائدین کا کہنا ہے کہ 25 نشستوں پر مجلس کے مقابلہ سے اسے ضرور فائدہ ہوگا کیونکہ مسلم اور سیکولر ووٹ تین پارٹیوں میں تقسیم ہوجائیں گے۔ بی جے پی ہندو ووٹ بینک کو متحد کرنے میں مصروف ہے اور اسے مجلس کے امیدواروں کے اعلان کا انتظار ہے۔ بی جے پی نے شہری اور دیہی علاقوں میں فرقہ وارانہ اساس پر انتخابی مہم کا آغاز کردیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ مجلسی قیادت نے موجودہ 7 ارکان اسمبلی میں 2 ارکان کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ امیدواروں کے ناموں پر سوشیل میڈیا میں روزانہ ایک نئی فہرست منظر عام پر آرہی ہے لیکن مجلسی قیادت نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ صدر مجلس نے بارہا عوام سے اپیل کی ہے کہ جہاں مجلس کے امیدوار نہ ہوں وہاں بی آر ایس کی تائید کی جائے۔ کانگریس نے حالیہ عرصہ میں اقلیتوں کو اپنے قریب کرنے میں کامیابی حاصل کی ، ان حالات میں اگر مجلس 25 حلقوں سے مقابلہ کرتی ہے تو سیکولر ووٹ کی تقسیم کا خطرہ برقرار رہے گا ۔ بتایا جاتا ہے کہ موجودہ 7 اسمبلی حلقہ جات کے علاوہ مجلس ، جوبلی ہلز ، راجندر نگر ، مشیرآباد ، عنبر پیٹ ، مہیشورم ، وقار آباد ، نرمل ، کریم نگر اور دیگر حلقہ جات سے مقابلہ کی تیاری کر رہی ہے۔