مجلس کو بابری مسجد کی خاطر ٹی آر ایس سے اتحاد ختم کرنے کا چیلنج

   

نرسمہا راو کو اعزاز سے متعلق قرارداد کی مخالفت محض دکھاوا ۔ ترجمان ایم بی ٹی امجد اللہ خالد
حیدرآباد۔ ترجمان مجلس بچاو تحریک امجد اللہ خاں خالد نے مسلم تنظیموں اور یونائیٹیڈ مسلم فورم کے ذمہ داروں سے اپیل کی کہ وہ کم از کم اب ٹی آر ایس کے حقیقی چہرے کو پہچانیں جس کی حکومت نے پی وی نرسمہا راو کو بھارت رتن دینے کی قرار داد پیش کی ہے ۔ امجد اللہ خاں خالد نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ یونائیٹیڈ مسلم فورم کو اب اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اسی فورم اور اس کے ذمہ داروں نے اسمبلی اور پارلیمانی انتخابات میں ٹی آر ایس کو ووٹ دینے کی اپیل کی تھی ۔ اب اسی تائید کے بل پر ٹی آر ایس حکومت بابری مسجد کی شہادت کے ذمہ دار پی وی نرسمہا راو کو اعزاز دے رہی ہے ۔ ترجمان ایم بی ٹی نے ٹی آر ایس کی تائید کرنے والوں سے کہا کہ وہ کم از کم اب اپنے اسلامی ضمیر کا مظاہرہ کریں اور ٹی آر ایس سے قطع تعلق کا اعلان کریں اور یہ ثابت کریں کہ ان کیلئے کے سی آر کی خوشنودی سے زیادہ بابری مسجد عزیز ہے ۔ امجد اللہ خاں خالد نے اویسی برادران اور مجلس پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنے ذاتی مفادات کیلئے مسلمانوں کو بیوقوف بنا رہے ہیں۔ وہ اسمبلی کے بائیکاٹ کا ڈھونگ کر رہے ہیں۔ امجد اللہ خاں نے کہا کہ ساری دنیا جانتی ہے کہ بابری مسجد کی شہادت میں پی وی نرسمہا راو کا رول رہا ہے اور انہوں نے ٹاڈا اور پوٹا جیسے قوانین بناکر بھی مسلمانوں کو نقصان پہونچایا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ مجلس کی جانب سے نرسمہا راو کو بھارت رتن کی قرار داد کی مخالفت مضحکہ خیز ہے کیونکہ مجلس قرار داد کی مخالفت تو کر رہی ہے لیکن قرارداد منظور کرنے والی ٹی آر ایس حکومت کی تائید برقرار رکھے ہوئے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر واقعی مجلس اس قرار داد کی مخالف ہے تو اسے فوری ٹی آر ایس سے اپنا اتحاد توڑ لینا چاہئے ۔ اسد اویسی کو چاہئے کہ وہ ٹی آر ایس سے اپنا اتحاد ختم کرنے کا اعلان کریں۔ مجلس نے ڈھونگ رچانے کیلئے اسمبلی کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے اور وہ صرف دکھاوے کی سیاست کر رہی ہے ۔