لوک سبھا کیلئے کانگریس امیدواروں کو کامیاب بنانے کی اپیل سے تائیدی امیدوار شکست فاش ، جوبلی ہلز اسمبلی حلقہ میں کانگریس کی تائید و نتائج پر گہری نظر
حیدرآباد۔22۔اکٹوبر(سیاست نیوز) 2023اسمبلی انتخابات میں مجلسی قیادت نے بی آر ایس کے حق میں کھل کر انتخابی مہم چلائی تھی اور کانگریس کے خلاف کے ووٹ دینے کی اپیل کی تھی لیکن اس کے بعد بھی عوام نے بی آر ایس کو اقتدار سے بے دخل کرتے ہوئے تلنگانہ میں کانگریس کو اقتدار فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا اور اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد اندرون 6ماہ ملک میں ہوئے عام انتخابات میں کانگریس کے جن لوک سبھا امیدواروں کی مجلس نے تائید کرتے ہوئے انہیں کامیاب بنانے کی اپیل کی تھی ان تمام کو شکست کا سامنا کرنا پڑاتھا اور اب مجلس نے حلقہ اسمبلی جوبلی ہلز کے ضمنی انتخابات میں کانگریس کے حق میں ووٹ کے استعمال کی اپیل کی ہے۔ مجلس اتحاد المسلمین نے 2023 میں کانگریس کے اس وقت کے صدرپردیش کانگریس و موجودہ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کو ’’آرایس ایس انا‘‘ قرار دیتے ہوئے انہیں ناکام بنانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ نئے ماموں سے نکٹے ماموں اچھے ہیں اور انہوں نے کچھ کام کیا ہے اسی لئے نئے ماموں کا تجربہ کرنے کے بجائے’’نکٹے ماموں‘‘ سے ہی کام چلایا جائے لیکن بیرسٹر اسدالدین اویسی کی ان اپیلوں کے باوجود عوام نے بی آ ر ایس کے بجائے کانگریس کے حق میں اپنے ووٹ استعمال کرتے ہوئے مسٹر اے ریونت ریڈی کو چیف منسٹر بنانے کی راہ ہموار کی لیکن اندرون 6ماہ منعقد ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں بیرسٹراسدالدین اویسی نے کانگریس کے لوک سبھا امیدواروں کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں کامیاب بنانے کی اپیل کی تھی لیکن وہ تمام امیدوار ناکام ہوگئے جن کی صدر مجلس نے نشاندہی کی تھی اور اب صدر مجلس نے حلقہ اسمبلی جوبلی ہلز کے ضمنی انتخابات میں کانگریس امیدوار نوین یادو کو کامیاب بنانے کی اپیل کی ہے ۔ بیرسٹر اسدالدین اویسی کی جانب سے کی گئی اس اپیل کے ساتھ ہی 2023 میں ان کی جانب سے کانگریس کے خلاف دیئے گئے بیانات کے ویڈیو کے علاوہ کے سی آر کی ستائش میں ادا کئے گئے کلمات کے ویڈیوسوشل میڈیا پر گشت کرنے لگے ہیں اور مختلف گوشوں سے یہ کہا جانے لگا ہے کہ ریاست میں جو سیاسی جماعت اقتدار میں ہوتی ہے مجلس اس سیاسی جماعت کے امیدار کی تائید اور کامیابی کے لئے راہ ہموار کرنے کی کوشش کرتی ہے بی آر ایس مجلس کی جانب سے کانگریس امیدوار کی تائید کے باوجود اس مسئلہ پر کوئی ردعمل ظاہر نہ کرتے ہوئے یہ باور کروانے کی کوشش کر رہی ہے کہ مجلس کی تائید یا مخالفت سے اب کوئی فرق نہیں پڑرہا ہے۔3