مجلس کی عوام پر گرفت کمزور، مذہبی رہنماؤں کا انتخابی جلسوں میں استعمال

   

دین سے زیادہ شخصی مفادات کو ترجیح، جوبلی ہلز ، نامپلی اور یاقوت پورہ میں مذہبی رہنماؤں سے مسلمان ناراض
حیدرآباد ۔20۔نومبر (سیاست نیوز) سیاسی پارٹیاں اور قائدین جب مذہبی شخصیتوں کو انتخابی مہم میں استعمال کرنے لگ جائیں تو سمجھ جایئے کے عوام پر ان کی گرفت کمزور ہوچکی ہے۔ حیدرآباد میں مذہبی قیادت کسی زمانہ میں سیاسی گرفت سے بالاتر تھی اور سیاستداں مذہبی رہنماؤں کی چوکھٹ پر آشیرواد اور دعا کیلئے حاضر ہوتے تھے لیکن جب سے مذہبی افراد کو اپنے مفادات کی تکمیل کی فکر لاحق ہوچکی ہے اور وہ تنازعات میں گھرچکے ہیں، تب سے انہوں نے سیاسی قائدین اور پارٹیوں کا دامن تھام لیا ہے۔ حیدرآباد میں لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کی تاریخ شاہد ہے کہ کسی بھی مہم میں مذہبی رہنماؤں نے حصہ نہیں لیا۔ عوام کا جب سے مجلس پر سے اعتماد متزلزل ہونے لگا اس وقت سے نام نہاد یونائٹیڈ مسلم فورم تشکیل دیتے ہوئے تائید کی اپیل کرائی جارہی ہے ۔ فورم میں شامل شخصیتوں کو مختلف اضلاع میں مسلمانوںکے درمیان مہم کیلئے بھی استعمال کیا گیا۔ فورم میں اگرچہ بی آر ایس اور مجلس کی تائید کا پہلے ہی اعلان کردیا ہے ، لیکن جاریہ اسمبلی چناؤ کی انتخابی مہم میں بعض ایسے مذہبی چہروں کو مجلس کے اسٹیج پر دیکھا جارہا ہے جو عوام میں اپنی تقاریر کے سبب کافی متنازعہ ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک دوسرے کی ضرورت کے نعرے کے تحت مجلسی قیادت نے چند مذہبی رہنماؤں کو انتخابی اسٹیج تک پہنچادیا ہے۔ ایسے اسمبلی حلقہ جات جہاں مجلس کو سخت مخالفت کا سامنا ہے ، وہاں مذہبی افراد کو انتخابی جلسوں میں مدعو کرتے ہوئے رائے دہندوں کے مذہبی جذبات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جار ہی ہے۔ جوبلی ہلز ، نامپلی اور یاقوت پورہ اسمبلی حلقہ جات جہاں مجلس کو سخت مقابلہ درپیش ہے، وہاں مقامی آبادی میں جو طبقہ زیادہ ہے، ان سے تعلق رکھنے والے مذہبی افراد کو انتخابی اسٹیج پر دیکھا جاسکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حیدرآباد میں اپنی متنازعہ تقریروں کے سبب ممنوعہ ایک مذہبی مقرر کو صدر مجلس نے شہرمیں داخلہ کا انٹری پرمٹ دینے کا وعدہ کیا ہے، جس کیلئے وہ انتخابی جلسوں میں مجلس اور مجلسی قیادت کی شان میں قصیدے پڑھ رہے ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ جس زبان سے اللہ اور اس کے رسولؐ کی شان بیان کی جاتی ہے ، اس زبان سے مجلسی قیادت کی تعریف عام مسلمانوں میں بے چینی پیدا کر رہی ہے۔ جوبلی ہلز اسمبلی حلقہ میں رائے دہندوں کی جانب سے قیادت اور قیادت کی تائید کرنے والی مذہبی شخصیتوں سے سوال کیا جارہا ہے کہ آخر گوشہ محل کے بجائے جوبلی ہلز سے امیدوار کھڑا کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ ایک مسلمان کو شکست دینے کے لئے دوسرے مسلم امیدوار کو میدان میں اتارنا کہاں کا انصاف ہے۔ اسمبلی اور لوک سبھا میں مسلم نمائندگی میں اضافہ کی دہائی دینے والی قیادت خود حیدرآباد میں کانگریس کے مسلم امیدواروں کو ہرانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔ جوبلی ہلز میں جو مذہبی شخصیت مجلس کے اسٹیج سے خطاب کر رہی ہے ، ان کے بارے میں عوام کی رائے مختلف ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض ذاتی معاملات اور مقدمات سے نجات حاصل کرنے کیلئے مجلس کے اسٹیج پر تقریر کا فیصلہ کیا گیا۔ صدر مجلس کی موجودگی میں مذہبی شخصیت کو مائیک دیا جارہا ہے تاکہ وہ قیادت کی تائید میں قصیدے پڑھ سکیں۔ اسی طرح یاقوت پورہ اسمبلی حلقہ میں ایک مخصوص طبقہ کی تائید حاصل کرنے کیلئے ان کے ایک مذہبی رہنما کو انتخابی اسٹیج سے خطاب کے لئے مجبور کیا گیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ جس علاقہ میں مذہبی رہنما کو تقریر کی ہدایت دی گئی، اس علاقہ میں مخصوص فرقہ سے تعلق رکھنے والے افراد کی آبادی ہے۔ عوام سیاسی اور انتخابی اسٹیج سے مذہبی شخصیتوں کو دیکھ کر یہ سوچنے پر مجبور ہوچکے ہیں کہ آخر کیا مجبوری تھی کہ سیاسی اسٹیج پسند آنے لگا ہے۔ دراصل دنیاوی فائدے اور ذاتی مفادات پر نظر رکھنے والے مذہبی نما رہنماؤں کا مذہب میں دل نہیں لگ رہا ہے۔ مجلسی قیادت کی جانب سے مذہبی دکھائی دینے والے چند قائدین کے استعمال سے شائد ہی کوئی فائدہ حاصل ہو کیونکہ عوام باشعور ہیں۔