مجوزہ اسمبلی الیکشن، تمام پارٹیوں کی مسلم ووٹ پر نظریں

   

حیدرآباد۔4۔اکٹوبر۔(سیاست نیوز) تلنگانہ ریاستی اسمبلی انتخابات میں اپوزیشن اور برسراقتدار جماعت دونوں ہی مسلم ووٹ کے حصول کے لئے کوشش میں مصروف ہیں اور ریاست کے مسلمانوں کے لئے ایک بہترین موقع ہے کہ وہ اپنے مطالبات کو تمام سیاسی جماعتوں سے منوانے کے لئے اپنے اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں ایک ڈیکلیرشین حوالہ کریں تاکہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے مسلمانو ںکے مطالبات کو قبول کرنے کے سلسلہ میں طمانیت حاصل کی جاسکے۔ کرناٹک اسمبلی انتخابات کے دوران مسلمانوں کے ووٹوں کے متحدہ استعمال نے کرناٹک میں قومی و علاقائی دونوں سیاسی جماعتوں کو شکست سے دوچار کردیا اور اپنے مطالبات کو منوانے کے لئے اثر انداز ثابت ہورہے ہیں ۔ تلنگانہ میں مذہبی و ملی تنظیموں کی جانب سے اگر متحدہ طور پر آزمائے ہوئے کو بار بار آزمانے کے بجائے اب تک کئے گئے وعدوں کو پورانہ کرنے کی وجوہات کے متعلق سوال کرنے کے علاوہ مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے کی خواہشمند سیاسی جماعتوں کو اپنی فہرست مطالبات پیش کرتے ہوئے ان سے عہد لیا جائے تاکہ وہ اپنے منشور میں نہ صرف مسلمانوں کے مطالبات کو شامل کریں بلکہ ان پر عمل آوری کی یقین دہانی کروائیں۔تلنگانہ میں موجود مسلم ووٹ انتہائی اہمیت کے حامل ہوچکے ہیں اور تمام سیاسی جماعتیں اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ مسلم ووٹ جس سیاسی جماعت کے حق میں متحدہ طور پر استعمال ہوگا اس سیاسی جماعت کو ریاست میں اقتدار حاصل ہوگا۔اسی لئے ریاست میں حکومت کی تشکیل کا خواب دیکھنے والی سیاسی جماعتوں کو تلنگانہ کے مسلمانوں سے کئے گئے وعدوں کو پورا نہ کئے جانے کی وجوہات کا جواب دینے کے علاوہ آئندہ کی حکمت عملی کے متعلق بھی اپنے موقف کی وضاحت کرنی چاہئے اور سرکردہ مذہبی و ملی تنظیموں کے ذمہ داروں کو مکمل طمانیت حاصل کرنے کے بعد ہی کسی بھی سیاسی جماعت کی تائید کے فیصلہ کے متعلق اعلان کرنا چاہئے کیونکہ مجموعی اعتبار سے تلنگانہ میں مختلف سیاسی جماعتوں بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے مسلم ووٹوں کی تقسیم کی کوشش کی جار ہی ہے اور ان کوششوں کو کامیاب بنانے کے لئے مختلف ذرائع کی مدد حاصل کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔ان کوششوں سے چوکنا رہتے ہوئے ریاست کے مسلمانوں کو اپنے مستقبل کو بہتر بنانے کے لئے متحدہ طور پر ووٹ کے استعمال کو یقینی بنانے کے اقدامات کرنے چاہئے اور اس بات کی کوشش کرنی چاہئے کہ وہ سیاسی جماعتوں کی جعل سازیوں کا شکار ہوئے بغیر قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں تاکہ سیاسی جماعتوں کو اس بات کا احساس ہوجائے کہ اگر مسلمان متحدہ طور پر کسی کی تائید کرتے ہیں تو وہ انہیں اقتدار دلوا سکتے ہیں اور اگر کوئی ان سے کئے گئے وعدوں سے انحراف کرتا ہے تو اسے اقتدار سے بے دخل کرسکتے ہیں۔
کرناٹک کے مسلمانوں نے متحدہ طور پر اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہوئے جس طاقت کا مظاہرہ کیا ہے وہی امتحان اب تلنگانہ کے مسلمانوں کا ہے کہ وہ اپنے اتحاد کی طاقت کا محض اعلان کرتے ہیں یا اس کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے فرقہ پرستی کے خاتمہ کے لئے متحدہ ووٹ کا استعمال کریں گے۔سیاسی جماعتیں تلنگانہ میں مسلمانوں کے فیصلہ کن ووٹوں حاصل کرنے کی دوڑ میں ہیں۔