کنزرویٹیو پارٹی کے چیف وہپ مارک اسپنسر نے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا
لندن : برطانیہ کی کنزرویٹو پارٹی کی ایک رکن پارلیمنٹ نصرت غنی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا مسلم عقیدہ ’ان کے ساتھی ارکان پارلیمنٹ کے لیے بے چینی کا سبب بنا۔‘برطانوی اخبار ڈیلی میل کے مطابق نصرت غنی نے یہ بات ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ’دی ٹائمز ‘ کو بتائی جب ان سے پوچھا گیا کہ انہیں وزارت سے کیوں ہٹایا گیا تھا۔واضح رہے کہ نصرت غنی کو فروری 2020 میں وزیر ٹرانسپورٹ کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ’انہیں کنزرویٹو پارٹی کے وہپ نے بتایا کہ ان کے مسلمان ہونے کی وجہ سے مسئلہ پیدا ہوا۔‘دوسری جانب کنزرویٹو پارٹی کے چیف وہپ مارک اسپنسر نے ان الزامات کو ’بے بنیاد اور ساکھ کو نقصان پہنچانے والے‘ قرار دیا ہے۔49 سالہ نصرت غنی نے ’دی ٹائمز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت انہوں نے’ خود کو انتہائی کمزور اور تذلیل کا شکار‘ محسوس کیا۔ان الزامات کے بعد کنزرویٹو پارٹی کے چیف وہپ مارک اسپنسر نے ٹوئٹر کے ذریعے جواب دینے کی کوشش کی اور یہ تاثر دیا کہ نصرت غنی جس شخص پر الزام لگا رہی ہیں، وہ وہی ہیں۔مارک ا سپنسر نے کہا کہ انہوں نے ’کبھی بھی ایسے الفاظ استعمال نہیں کیے۔‘یاد رہے کہ نصرت غنی کنزرویٹو پارٹی کی جانب سے 2015 میں رکن پارلیمنٹ منتخب ہونے والی پہلی مسلمان خاتون تھیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں خبردار کیا گیا تھا کہ اگر انہوں نے اسلاموفوبیا کے مسئلے کو اجاگر کرنا جاری رکھا تو ان کا ’کیریئر اور ساکھ برباد ہو جائے گی۔‘نصرت غنی نے یہ بھی بتایا کہ انہیں کہا گیا تھا کہ وہ پارٹی کے ساتھ ’وفادار‘ نہیں ہیں کیونکہ وہ پارٹی پر اسلاموفوبیا کے الزامات کا دفاع نہیں کر رہی ہیں۔