محبوب نگر: بزم کہکشاں محبوب نگر کے خصوصی اجلاس میں اردو کی بقاء و فروغ کے سلسلہ میں غور کیا گیا۔ جناب حلیم بابر صدر بزم کہکشاں نے بڑے کرب سے کہا کہ اردو کا دامن دن بہ دن تنگ ہوتا جارہا ہے، کئی محبان اردو جدا ہوگئے ۔ حال ہی میں اردو کے دو مایہ ناز احباب شمس الرحمن فاروقی اور حسن چشتی بھی رخصت ہوگئے جو اردو کی عمارت کے ستون سمجھے جاتے تھے۔ مستقبل میں ایسی شخصیتوں کا وجود میں آنا مشکل ہے جو اردو کی بقاء و فروع کیلئے مسلسل جدوجہد کرتے رہے۔ ان دونوں کے علاوہ اور بھی نامور احباب دنیا چھوڑ کر چلے گئے۔ اس طرح اردو بے بسی و مایوسی کا شکار ہوگئی ہے چونکہ اس کے چاہنے والے اس کی پرورش کرنے والے دور ہوگئے۔ اردو کا مختلف انداز میں قتل کیا جارہا ہے جس کا ایک ثبوت اردو جماعتوں کی برخواستگی تو دوسری طرف ہمارے طلباء کی اردو میڈیم میں عدم شرکت، حکومت کا تعاون بھی چھوٹتا جارہا ہے ۔ حکومت نے اردو کو دوسری سرکاری زبان تسلیم کیا ہے مگر اقدامات میں سُستی و تاخیر اس کا گلہ گھوٹ رہی ہے۔ اس پس منظر میں محبان اردوکی بھی ذمہ داری بنتی ہے چونکہ وہ طلبہ کیلئے اردو زبان سیکھنے اور پڑھنے میں سچی تڑپ سے کام نہیں کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ اردو ہماری تہذیب و سماج کا ایک سرمایہ ہے اس کو لٹتا ہوا یا بکھرتا ہوا ہم نہیں دیکھ سکتے۔ آج ضرورت ہے کہ نوجوان نسل اردو میڈیم سے میٹرک تک پڑھے اور اس کے بعد وہ انگریزی میڈیم میں اگر داخلہ لیں تو کوئی حرج نہیں۔ زمانہ شاہد ہے کہ ماضی میں اردو ذریعہ تعلیم سے بے شمار لوگ بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہے۔ یہ غلط نظریہ ہے کہ اردو پڑھنے والے روزگار سے محروم رہتے ہیں۔ اردو کی بقاء و فروغ کے سلسلہ میں اور بھی تجاویز پر غور کیا گیا۔ اس موقع پر محبان اردو سے اپیل کی گئی کہ وہ اردو جیسی میٹھی زبان کو گلے لگائیں اور یہی مادری زبان سے صحیح انصاف بھی ہے۔
