تلنگانہ میں عنقریب بس یاترا، 15 اگسٹ کو ایس سی، ایس ٹی اور اقلیت گرجنا، کانگریس کی پولٹیکل افیرس کمیٹی کے فیصلے
حیدرآباد۔/23جولائی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں انتخابی حکمت عملی طئے کرنے پردیش کانگریس پولٹیکل افیرس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اے آئی سی سی انچارج مانک راؤ ٹھاکرے نے صدارت کی۔ صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی، سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا، کنوینر پی اے سی محمد علی شبیر، ارکان پارلیمنٹ اتم کمار ریڈی، کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی، رکن کونسل جیون ریڈی، اے آئی سی سی سکریٹریز روہت چودھری، منصور علی خاں، انتخابی تشہیر کمیٹی صدرنشین مدھو یاشکی گوڑ، ورکنگ صدر مہیش کمار گوڑ، انجن کمار یادو، رکن اسمبلی جگا ریڈی، سابق مرکزی وزیر رینوکا چودھری، سابق صدور پردیش کانگریس پونالہ لکشمیا، وی ہنمنت راؤ، سابق سی ایل پی لیڈر کے جانا ریڈی، اے آئی سی سی سکریٹریز سمپت کمار، ڈاکٹر جی چنا ریڈی، سابق ڈپٹی چیف منسٹر دامودھر راج نرسمہا اور سابق مرکزی وزیر بلرام نائیک نے شرکت کی۔ تلنگانہ کی تازہ سیاسی صورتحال اور اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کرناٹک کی طرز پر انتخابی حکمت عملی طئے کرکے سماج کے تمام طبقات کی تائید حاصل کی جائے گی۔ تلنگانہ میں وقفہ وقفہ سے قومی قائدین کے پروگرام منعقد کئے جائیں گے۔ راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی کے علاوہ صدر کانگریس ملکارجن کھرگے کے متواتر دوروں کا اہتمام کیا جائیگا۔ مانک راؤ ٹھاکرے نے قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ داخلی اختلافات پر میڈیا سے رجوع ہونے کے بجائے ہائی کمان تک اپنی شکایت پہنچائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ متحدہ مقابلہ سے تلنگانہ میں کامیابی ممکن ہے۔ اجلاس میں سینئر قائدین کی بس یاترا کے آغاز سے اتفاق کیا گیا۔ بعد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مدھو یاشکی گوڑ، محمد علی شبیر اور انجن کمار یادو نے بتایا کہ 30 جولائی کو محبوب نگر کے کولا پور میں جنرل سکریٹری اے آئی سی سی پرینکا گاندھی کے پروگرام کو قطعیت دی گئی۔ اس جلسہ میں کئی اہم قائدین کانگریس میں شامل ہونگے۔ اجلاس میں کانگریس کے انتخابی منشور کی تیاری کا بھی جائزہ لیا گیا۔ تین گھنٹوں سے زائد تک اجلاس جاری رہا۔ انہوں نے بتایا کہ 15 اگسٹ کو ایس سی، ایس ٹی اور میناریٹیز گرجنا سبھا کا انعقاد عمل میں آئے گا جس میں ملکارجن کھرگے شرکت کرینگے۔ کے سی آر حکومت نے گذشتہ 9 برسوں میں مذکورہ طبقات سے ناانصافی کی ہے۔ مذکورہ طبقات کیلئے کانگریس کے تیقنات کو قطعیت دینے دو دن میں سب کمیٹی قائم کی جائیگی۔ کانگریس نے برسر اقتدار آنے پر 4 ہزار روپئے وظیفہ کا اعلان کیا ہے اور حکومت کی جانب سے معذورین کے وظیفہ کو 4016 کرنا کانگریس کی کامیابی ہے۔ قائدین کی بس یاترا کیلئے سب کمیٹی قائم کی گئی جو یاترا کے روٹ میاپ کو قطعیت دے گی۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ او بی سی، ایس سی، ایس ٹی، مسلم اور کرسچن اقلیت کے علاوہ خواتین کیلئے ڈیکلریشن کی اجرائی باقی ہے۔ اس سلسلہ میں علحدہ سب کمیٹی قائم کی جائیگی۔ 5 ڈیکلریشن پر ماہرین اور اسکالرس سے تجاویز حاصل کی جائیں گی۔ اجلاس میں منی پور کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور کیرالا کے سابق چیف منسٹر اومن چنڈی اور سابق ریاستی وزیر سی رامچندرا ریڈی کو خراج پیش کیا گیا۔
