رامچندر گوہا
ہندوستان میں اکثر لوگ مذہب سے قریب ہیں اور ان میں سے بھی ایسے بہت سارے لوگ ہیں جن کا میلان بہت زیادہ روحانیت کی جانب ہوتا ہے اور اس میدان میں کسی استاذ کسی گرو اور کسی اتالیق کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے ورنہ روحانیت کے بلند مدارج طئے کرنے میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑسکتا ہے ۔ ہمارے ملک میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو مذہبی یا روحانی رہنمائی کیلئے کسی گرو کی تلاش میں رہتے ہیں ۔ روحانیت ایک ایسا شعبہ یا میدان ہے جس میں رہنمائی بہت اہمیت رکھتی ہے ۔ ایسے لوگوں کو ایک گرو کی ضرورت ہوسکتی ہے جو اُنھیں تعلیم دے اور اس راہ پر پر لے جائے جس کے بارے میں خود اس کا خیال ہوکہ یہ راستہ درست ہے۔
دوسری طرف شاگرد یا مرید سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے گرو کی پوری پوری فرمانبرداری کرے ، اُس کی اندھی تقلید کرے وہ جو حکم دے اسے بلا چوں و چراں بجالائے لیکن جو لوگ اسکالر یاعالم بننے کے خواہاں ہوں ان کیلئے گرو کی تلاش مناسب نہیں ، تنقیدی جستجو اور حقیقی تحقیق اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ انسان ذہنی طورپر خودمختار ہو ، ذہنی طورپر آزاد ہو ، مختلف نظریات و تصورات طریقوں کو اپنی فکری رجحانات کے مطابق ڈھالے ،باالفاظ دیگر اختیار کرے یا ترک کرے نہ کہ کسی اور کے کہنے پر چاہے وہ شخص کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو ، خاص طورپر زیادہ مشہور و معروف کیوں نہ ہو ۔ افسوس اس بات پر ہے کہ روحانی تلاش اور عملی جستجو کے درمیان یہ اہم فرق ہندوستان میں بڑی حد تک نظرانداز کردیا گیا ۔
اگر دیکھا جائے تو ہمارے عظیم ملک ہندوستان کی تعلیمی ثقافت ناقابل اصلاح حد تک جاگیردارانہ ہے جہاں عمر اور درجات میں بڑے لوگ اپنے آپ کو گرو سمجھنے لگتے ہیں اور دوسروں سے اُن کا حکم ماننے ، اُن کی ہدایات پر عمل کرنے ، اُن کی مرضی و منشاء کے مطابق چلنے کامطالبہ کرتے ہیں اور اُس کے عوض عقیدت حاصل کرلیتے ہیں اور سوچ و فکر کی بلکہ یہ فکری جاگیرداری سائنس اور علوم انسانی دونوں میں بدرجہ اتم موجود ہے اور علوم انسانی کے اندر بھی ہر نظریاتی اور تصوراتی رنگ میں موجود ہے۔ مثال کے طورپر مارکسزم نظریاتی طورپر سماجی درجہ بندی کے خلاف یعنی وہ مساوات کی وکالت کرتا ہے لیکن عملی طورپر کولکتہ کے مارکسی پروفیسر اپنے جونیرس کے ساتھ کسی قدامت پسند ہندو رجحان کے حامل وارانسی کے پروفیسرس سے کم درجہ بندی والے رویہ کا مظاہرہ نہیں کرتے ۔
ہاں یہ بھی ایک اہم بات ہے کہ اگرچہ نوجوان اہل علم کو کسی ایک گرو کی تلاش میں نہیں ہونا چاہئے لیکن ابتدائی مرحلہ میں وہ اپنے سے بزرگ یا بڑے اہل علم سے رابطہ رکھتے ہوئے استفادہ کرسکتا ہے ، فائدہ اُٹھاسکتا ہے یہ زیادہ تجربہ کار افراد نوآموز محقق کی رہنمائی کرسکتے ہیں بکہ سمت کا تعین اور سب سے بڑھکر تنقیدی آراء فراہم کرسکتے ہیں وہ رہنما مشیر یا وقتی طورپر سرپرست تو ہوسکتے ہیں مگر گرو ہرگز نہیں ۔ بزرگوں کی بات غور سے سننے کے باوجود آخرکار یہ فرد واحد عالم ہی کا فیصلہ ہوتا ہیکہ وہ کس خاص تحقیقی مسئلہ پر کام کرے اور کس انداز سے کرے ۔ علمی عمل سے متعلق یہ خیالات ان دو بزرگوں اہل علم کی بے وقت موت کے بعد ذہن میں آئے جنھوں نے میری جوانی میں مجھ پر سب سے زیادہ اثر ڈالا ان میں ماہر ماحولیات مدھو گڈگل بھی شامل ہیں جن کا انتقال 7 جنوری کو پونہ میں ہوا اُن کی عمر 83 برس تھی ۔ دوسرے بزرگ ماہر سماجیات Andre Beteille تھے جن کا انتقال 3 فبروری کو دہلی میں ہوا ۔
وہ 83برس کی عمر میں وفات پا گئے، اور سماجیات کے ماہر آندرے بیٹئیل کا انتقال دہلی میں 3 فروری کو اکیانوے برس کی عمر میں ہوا۔ میں پہلی بار گڈگل سے 1982 میں ملا، جب میری عمر چوبیس برس تھی اور وہ چالیس کے تھے۔ میں بیٹئیل سے پہلی مرتبہ 1988 میں ملا، جب میں ابھی تیس برس کا ہوا تھا اور وہ پچاس کے درمیانی عشرے میں تھے۔ ہماری عمروں کے فرق کے باوجود (ایک معاملے میں زیادہ اور دوسرے میں نہایت نمایاں)، میری دونوں سے تقریباً فوراً ہی دوستی ہو گئی، جو اْن کی وفات تک تقریباً برقرار رہی۔ اگرچہ کبھی کبھار ہم اپنے اپنے خاندانوں کے بارے میں بات کرتے تھے، لیکن زیادہ تر پروفیسر گڈگل اور بیٹئیل کے ساتھ میری گفتگو سماج، سیاست، ثقافت، تاریخ، ماحولیات، ہندوستان اور دنیا کے موضوعات پر ہوتی تھی۔
ابتدائی نظر میں، سوانحی اعتبار سے مادھو گڈگل اور آندرے بیٹئیل کے درمیان بہت فرق دکھائی دیتا ہے۔ گڈگل ایک سائنس دان تھے، جبکہ بیٹئیل نہیں تھے۔ گڈگل کی پرورش پونے میں ہوئی اور انہوں نے انگریزی سیکھنے سے پہلے طویل عرصے تک مراٹھی بولی۔ اگرچہ بیٹئیل کے والد فرانسیسی تھے، مگر وہ اپنی والدہ کے خاندان سے زیادہ وابستہ تھے، جو بنگالی تھا۔ وہ چندن نگر میں پلے بڑھے اور زیادہ تر تعلیم کلکتہ میں حاصل کی، اسکول اور کالج میں انگریزی بولتے تھے اور گلی میں اپنے دوستوں کے ساتھ بنگالی۔ بیٹئیل نے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہندوستان میں حاصل کی، جبکہ گڈگل نے یہ ڈگری امریکہ میں حاصل کی۔ گڈگل نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا بڑا حصہ بنگلور میں گزارا، جبکہ بیٹئیل نے دہلی میں۔ آخر میں، گڈگل اور بیٹئیل کبھی آپس میں ملے نہیں، اور ایک دوسرے کو زیادہ تر اپنے مشترکہ دوست، یعنی اس مضمون کے مصنف، کے ذریعے جانتے تھے۔اس کے باوجود، جب میں اْن کے کیریئر پر مجموعی طور پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے نمایاں مماثلتیں دکھائی دیتی ہیں۔ آگے میں دس ایسی خصوصیات بیان کروں گا جو فکری رجحان اور علمی عمل کے اعتبار سے مادھو گڈگل اور آندرے بیٹئیل کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہیں۔اوّل، دونوں اپنے علمی کام میں حقیقی معنوں میں بین العلومی (Interdisciplinary) تھے۔ بیٹئیل ایک سماجیات دان تھے جو مؤرخین، ماہرینِ معاشیات اور قانونی ماہرین سے رابطہ رکھتے تھے؛ جبکہ گڈگل ایک ماہرِ ماحولیات تھے جو سائنس اور علومِ انسانی کی تقسیم کو عبور کرتے ہوئے ماہرینِ بشریات اور مؤرخین کے ساتھ مشترکہ تحقیق کرتے تھے۔
دوم، اپنے کام میں دونوں نے نظریہ اور تجرباتی تحقیق کو یکجا کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بیٹئیل نے ابتدا میں بطور ماہرِ بشریات (Ethnographer) تربیت حاصل کی لیکن بعد میں تقابلی سماجیات کی طرف مائل ہو گئے؛ جبکہ گڈگل نے ماحولیات میں پہلے نسبتاً نظریاتی انداز اختیار کیا اور بعد ازاں فطرت کے ساتھ انسانی تعلقات کے تنوع پر میدانی تحقیقات کیں۔