محصول سے ہوئی آمدنی اسرائیل فلسطین کے حوالے کرے

   

اوسلو: ناروے کے وزیر اعظم جوناس گھار سٹوئر نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ فلسطینی اتھارٹی کو محصؤلات سے ہونے والی پوری آمدنی منتقل کرے ، کیونکہ یہ ادائیگیاں فلسطینی عوام کی بہبود کیلئے انتہائی اہم ہیں۔ناروے فلسطینی علاقوں کیلئے بین الاقوامی ڈونرز کے گروپ کا سربراہ ہے۔ اسے ایک عارضی رابطہ کمیٹی کا نام دیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں 1992/ 93 میں ہونے والے اوسلو معاہدے میں سہولتکار کا کردار ناروے کو ہی سونپا گیا تھا۔اسی معاہدے کے تحت فلسطینیوں کے ایک گروپ نے فلسطینی ریاست سے کم یعنی محدود خود اختیاری کے راستے کے طور پر فلسطینی اتھارٹی قبول کر لی تھی۔چند روز قبل دو نومبر کو اسرائیل نے اعلان کیا تھا کہ وہ فلسطینی اتھارٹی کو ٹیکسوں سے ہونے والی رقم دے گا مگر غزہ کے حوالے سے کٹوتی کرے گا۔