محمد دیپک نے فرقہ پرستوں کو حیران کردیا

   

کوشک راج
ہندوستان بھ میں محمد دیپک کی دھوم ہے۔ راہول گاندھی نے اتراکھنڈ کے اس ہندو نوجوان کو ملک کا ہیرو قرار دیا ہے جس نے بقول ان (راہول گاندھی) کے نفرت کے بازار میں محبت کی دکان کھولی ہے۔ ایک بات ضرور ہے کہ دیپک نے جہاں ملک بھر میں روزانہ تشدد کا سامنا کرنے والے مسلمانوں کی مایوسی کا جواب دیا ہے وہیں ہندوؤں کے قصور کا جواب بھی دیا جو فرقہ پرستوں اور فرقہ پرست تنظیموں کی ناپسندیدہ حرکتوں کے خلاف کچھ نہیں کرسکتے۔ اگر ہم سوشل میڈیا کی بات کریں تو یہ بتانا ضروری ہے کہ اگر آپ سوشل میڈیا پر جائیں گے یا اسے اسکرول کریں گے تو یہ آپ کو خبروں، مضامین، مشہور و معروف شخصیتوں کے بارے میں نت نئی معلومات (اپ ڈیٹس) اور دوست احباب کی جانب سے کئے جانے والے اپ ڈیٹس تک بلکہ غیر اخلاقی، غیر قانونی اور قابل مذمت مواد تک بھی لے جاتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ ہم نے اپنے فون کے اسکرین پر یا ٹیلی ویژن کے اسکرین پر غریب مسلمانوں کو ہراساں و پریشان کرنے والے گروہوں یا گروپوں کی ویڈیوز نہیں دیکھی ہیں۔ حالانکہ ہمارے ملک میں مسلمانوں بالخصوص غریب مسلمانوں کو ہراساں و پریشان کرنے کے واقعات روز کا معمول بن گئے ہیں۔ بعض واقعات میں یا ویڈیوز میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ ہندوتوا کے نام پر اور ہندو خطرہ میں ہیں یا پھر سناتن دھرم کو خطرہ لاحق ہے جیسے نعروں کا استعمال کرتے ہوئے غریب مسلمانوں کو جئے شری رام جیسے مذہبی نعرے لگانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ کچھ ایسے واقعات بھی پیش آتے ہیں جن میں فرقہ پرست طاقتیں مسلم تاجرین سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی دکانات کے نام تبدیل کردیں۔ کئی ایسے واقعات کا بھی ہم سب نے مشاہدہ کیا ہے جس میں مسلمانوں سے ان کے شناختی کارڈ طلب کئے جاتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ ہم میں اکثر لوگوں نے مذہب کے نام پر مسلمانوں کو زدوکوب کرتے ہوئے مسلمانوں پر مظالم ڈھاتے ہوئے بھی دیکھا ہے حالانکہ مسلمانوں نے کسی بھی واقعہ میں ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔ آپ کو بتادیں کہ ہندوؤں کے دو گروہ ہیں جو سوشل میڈیا پر اس قسم کے مواد کو دیکھتے ہیں یا اس قسم کے ناپسندیدہ و ناخوشگوار واقعات کے عینی شاہد اور گواہ ہیں۔ سب سے پہلے وہ لوگ جو اس طرح کے ظلم و جبر (مسلمانوں کے خلاف کارروائی) سے پوری طرح اتفاق رکھتے ہیں۔ دوسرے وہ لوگ جنھیں بے قصور مسلمانوں پر حملوں کو دیکھ کر بُرا لگتا ہے لیکن وہ اس ظلم و جبر کے خلاف آواز اُٹھانے کے بجائے خاموش رہنے کو ترجیح دیتے ہیں کیوں کہ ان کا یہ سمجھنا ہوتا ہے کہ مسلم دشمن گروپوں کے پاس طاقت ہے، دولت ہے، اقتدار ہے اور انھیں ہر قسم کا تحفظ حاصل ہے۔ ان حالات میں وہ خود کو بے بس و مجبور سمجھتے ہیں اور فرقہ پرست گروپوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ اندر ہی اندر وہ خوف میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور اسکرول کرنے کے لئے انگلیاں تیزی سے حرکت کرنے لگتی ہیں۔ اگر وہ کسی بازار، کسی مارکٹ میں اس قسم کے ناخوشگوار واقعہ کا مشاہدہ کررہے ہیں تو شائد وہ رُک جائیں۔ مسلم دکاندار کو ہراساں کرتے ہوئے دیکھیں تو بُرا محسوس کریں، انھیں ناگوار گذرے، ناراض ہوجائیں۔ بہرحال اتراکھنڈ کے دیپک کمار (محمد دیپک) کا تعلق ہندوؤں کے ان دونوں گروہوں میں سے کسی سے نہیں تھا، ان کا تعلق ایک نادر و نایاب تیسرے گروپ سے ہے۔ اس نے ایک مسلم بزرگ تاجر کو ہراساں کئے جانے کے واقعہ میں مداخلت کرنے اور اسے فرقہ پرستوں سے بچانے کو پسند کیا۔ اسے اچھی طرح اندازہ تھا کہ ایک بزرگ مسلم دکاندار کو ہراساں و پریشاں کرنے والے گروپ کا تعلق راست یا بالواسطہ طور پر اتراکھنڈ میں اقتدار پر بیٹھے لوگوں سے ہے لیکن ان کے حکمراں جماعت سے تعلق بھی دیپک کمار کو مزاحمت سے نہیں روک سکا اور اس نے وہ کر دکھایا جس کی تمنا چند برسوں سے محب وطن ہندوستانی اور حقیقی قوم پرست کررہے تھے۔ ہجوم نے جب دیکھا کہ دیپک کمار ان کے ناپاک عزائم و ارادوں پر عمل آوری میں رکاوٹ بن رہے ہیں تب ان سے دریافت کیاکہ تمہارا نام کیا ہے تب دیپک کمار نے پرزور انداز میں کہاکہ میرا نام محمد دیپک ہے اور یہ ایک سطر یا ایک جواب ہندوستان میں 2014ء سے جاری فرقہ پرستوں کی کارروائیوں اور ان کے سیاسی کرتوتوں کے خلاف مزاحمت کی ایک علامت کے طور پر گونج رہی ہے جس سے وہ لوگ پریشان ہیں جو ہر حال میں ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کو تباہ و برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ وہ ایسے لوگ ہیں جو ملک میں مذہب کے نام پر لوگوں کو تقسیم کرکے اپنا اُلّو سیدھا کرنا چاہتے ہیں باالفاظ دیگر اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل چاہتے ہیں۔ اپنے مفادات کی تکمیل چاہتے ہیں۔
آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ یہ واقعہ یوم جمہوریہ کے موقع پر پیش آیا جب دیپک کمار نے بابا اسکول ڈریس اینڈ کلاتھنگ نامی دکان (یہ دکان 30 سالہ قدیم ہے) میں ہجوم کو داخل ہوتے دیکھا۔ وائرل ویڈیو میں ہجوم کو دکان کے بزرگ مالک وکیل احمد کو ڈراتے دھمکاتے ہوئے اپنی دکان کا نام تبدیل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ ہجوم نے وکیل احمد کو یہ دھمکی بھی دی کہ اگلی مرتبہ وہ دکان کا نام خود ہی تبدیل کردیں گے۔ ویسے بھی یہ سمجھنا ایک حماقت بلکہ غلطی ہوگی کہ بازار کے تمام ہندو دکاندار اور صارفین وکیل احمد کے ساتھ اس سلوک سے متفق تھے۔ اگر مقامی ہندوؤں کو دکان کے نام سے کوئی مسئلہ ہوتا تو وہ گزشتہ 30 برسوں کے دوران اعتراض کرتے، یہ کہنا درست ہوگا کہ ان میں سے کئی لوگ ہندوؤں کے دوسری قسم سے تعلق رکھتے تھے جنھوں نے ہجوم کے خوف کی وجہ سے مداخلت نہیں کی لیکن دیپک کمار نے وجئے راوت جیسے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر نہ صرف مداخلت کی بلکہ فرقہ پرست ہجوم کو ذلیل و خوار کرتے ہوئے انھیں وکیل احمد کی دکان سے واپس جانے پر مجبور کیا۔ اگر دیکھا جائے تو ہندوؤں کے دوسرے گروپ کا خوف بالکل بے بنیاد نہیں ہے۔ بہرحال دیپک کمار کی مخالفت کے بعد بجرنگ دل کے ایک ہجوم نے 31 جنوری کو اس کے گھر کا محاصرہ کیا اور سنگین عواقب و نتائج کی دھمکی دی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ پولیس نے جو تین ایف آئی آر درج کئے ہیں ان میں سے ایک خود قانون کی مدد کرتے ہوئے ایک ضعیف شخص کو بجرنگ دل والوں سے بچانے اور ان کے خلاف آواز اُٹھانے والے دیپک کمار کے خلاف بھی درج کی گئی ہے۔ دیپک کمار کے خلاف قانون کی مختلف دفعات بشمول 115(2) ، 191(1) ، 351(2) او 352 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی۔ کمل پال نامی شخص کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ دیپک کمار، وجئے اور ان کے دوستوں نے بدسلوکی کی اور حملہ کیا۔ دوسری طرف دیپک کے گھر کا گھیراؤ کرنے اور مسلمانوں کے خلاف اشتعال و نفرت انگیز نعرے لگانے والے ہجوم کے ویڈیوز کی موجودگی کے باوجود اس میں کسی کا نام نہیں لیا گیا۔ ہاں ایف آئی آر 30-40 نامعلوم افراد کے خلاف دفعات 191(2) ، 121(2)، 126(2)، 196(2) اور 352 کے تحت درج کی گئی۔ ہاں بابا ڈریس کے مالک وکیل احمد کی شکایت پر بھی ایک ایف آئی آر کا اندراج عمل میں لایا گیا۔ اس واقعہ کے بعد دیپک کمار محمد دیپک ہوگئے اور وجئے وجئے کٹوا ہوگئے۔ فرقہ پرستوں نے انھیں یہ نام دیا لیکن محمد دیپک سارے ہندوستان میں مشہور ہوگئے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ گزشتہ سال نینی تال میں شپلا نیگی نامی ایک ہندو خاتون بھی فرقہ پرست ہجوم کے خلاف اُٹھ کھڑی ہوئی تھیں۔ وہ ہجوم مسلمانوں کو ہراساں کررہا تھا۔ اس نیک دل خاتون کے خلاف اسی طرح کے ریمارکس کئے گئے تھے۔ اس کی وجہ بالکل صاف ہے اور وہ یہ ہے کہ فرقہ پرست ہجوم ہرگز ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ وہ مسلمانوں کی تائید و حمایت کریں، ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے معاندانہ سلوک کی مخالفت کریں، یہ عناصر یہی چاہتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کو ظلم و جبر کا نشانہ بنائیں اور ہندو ان مسلمانوں کی مدد کے لئے آگے نہ آئیں۔ آپ نے خاص طور پر یہ نوٹ کیا ہوگا کہ جب سیکولر ہندو نفرت کے خلاف اظہار خیال کرتے ہیں تو انھیں بڑی آسانی کے ساتھ ہندو مخالف ہندو دشمن قرار دیا جاتا ہے اور نفرت پھیلانے والے عناصر کے لئے یہ ایک آسان نسخہ بن گیا ہے۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ دیپک کمار خود ہنومان جی کے بھکت ہے جن کے نام پر بجرنگ دل نے اپنا نام رکھا ہے اور ان کے Gym میں ہنومان جی کے پوسٹرس آویزاں ہیں۔ ایک بات ضرور ہے کہ دیپک نے وکیل احمد کی مدد کرتے ہوئے انسانیت کے ساتھ کھڑے رہنے کا ثبوت دیا ہے۔