سنجیدہ تقاریر کی بجائے ہنسی مذاق، امیدواروں کے راز فاش، سنجیدہ طبقہ ناراض
حیدرآباد ۔13۔نومبر (سیاست نیوز) حیدرآباد میں اسمبلی انتخابات کی مہم اگرچہ عروج پر پہنچ چکی ہے لیکن پرانے شہر کے اسمبلی حلقہ جات میں انتخابی جلسے عوام کیلئے ’’کامیڈی نائیٹ‘‘ اور تفریح کا ذریعہ بن چکے ہیں۔ انتخابی مہم میں امیدوار اور ان کی پارٹیاں اپنی پالیسی کا اعلان کرتی ہیں کہ برسر اقتدار آنے پر عوام کی بھلائی اور علاقہ کی ترقی کیلئے کیا ایکشن پلان رہے گا۔ موجودہ ارکان اسمبلی اور ان کی پارٹی کو اپنی پانچ سالہ کارکردگی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کرنا ہوتا ہے تاکہ کارکردگی رپورٹ کی بنیاد پر رائے دہندے دوبارہ تائید کا فیصلہ کرسکیں۔ پرانے شہر میں ایک دور وہ بھی رہا جب انتخابی مہم مسائل اور ترقی کی بنیاد پر چلائی جاتی رہی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انتخابی مہم عوام کیلئے تفریح کا ذریعہ بن چکی ہے جہاں سیاسی پارٹیوں کے اسٹیج سے ایک دوسرے کے خلاف طنز ، لطیفے اور گھٹیا انداز کا مذاق کیا جارہا ہے۔ مخالفین کو نیچا دکھانے کیلئے اوچھے طریقے اختیار کرتے ہوئے عوام کو ہنسنے پر مجبور کیا جاتا ہے ۔ انتخابی مہم کا یہ گرتا ہوا معیار سنجیدہ رائے دہندوں کیلئے تکلیف دہ بن چکا ہے۔ پرانے شہر میں مقامی جماعت مجلس کے انتخابی جلسے عوام کیلئے تفریح کا سامان کر رہے ہیں۔ روزانہ نوجوانوں اور کامیڈی کے شائقین کو ایسے جلسوں کا بے صبری سے انتظار ہوتا ہے جن سے صدر مجلس اسد اویسی خطاب کرتے ہیں۔ اسد اویسی کی تقاریر نے مسائل کم اور تفریح زیادہ ہوتی ہے اور وہ تقریر کے دوران اپنے امیدواروں اور کارپوریٹرس کے نجی زندگی سے متعلق راز بھی عوام کے درمیان پیش کر رہے ہیں۔ پرانے شہر کے عوام پہلے ہی معاشی مسائل کے سبب پریشان ہیں اور روزانہ کی دوڑ دھوپ نے ان کی زندگی سے طنز و مزاح کو غائب کردیا ہے۔ ان حالات میں مجلس کے انتخابی جلسے ’’کامیڈی نائیٹ‘‘ کا متبادل بن چکے ہیں اور عوام کو گھر بیٹھے تفریح طبع کا سامان فراہم ہورہا ہے ۔ صدر مجلس اسد اویسی خود بھی یہ اعتراف کرچکے ہیں کہ ان کی شناخت ایک کامیڈین کے طور پر ہورہی ہے ۔ گزشتہ دنوں سوشیل میڈیا اور یو ٹیوب کے ایک کامیڈین کا انتخابی مہم کے دوران تعارف کراتے ہوئے اسد اویسی نے کہا کہ میرے ساتھ ایک مسلمہ کامیڈین ہے اور دوسرا میں ہوں۔ شائد انہیں یہ احساس ہوچکا ہے کہ سامعین کی نظروں میں وہ ’’اسد نائیٹ‘‘ کے اہم فنکار ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ عوام کے درمیان پیش کرنے کیلئے اپنے اور پارٹی کے کارنامے نہیں ہیں ، لہذا کامیڈی کے ذریعہ عوام کو خوش کرتے ہوئے ووٹ دینے کی اپیل کی جارہی ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ رائے دہی سے انتخابی جلسوں کا کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ مجلس کے لئے رائے دہی صرف چند گھنٹوں کا معاملہ ہے جہاں اپنے حامیوں اور غیر سماجی عناصر کے ذریعہ پولنگ بوتھس پر بوگس رائے دہی کرائی جاتی ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ مجلس کی کامیابی میں کارکردگی سے زیادہ ’’خیر و برکت کے ووٹ‘‘ اہم رول ادا کرتے ہیں ، لہذا صدر مجلس ہر انتخابی جلسہ میں سنجیدہ کم اور کامیڈی کے موڈ میں زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے ملک پیٹ ، نامپلی اور چارمینار اسمبلی حلقہ جات کے پارٹی امیدواروں کے بعض نجی راز کا افشاء کردیا جس کے بعد سے تینوں امیدوار اپنے قریبی حامیوں کے سوالات کا جواب دینے سے قاصر ہیں۔ سفر کے دوران امیدواروں کی عادات و اطوار اور خاص طور پر سگریٹ نوشی اور کھانے پر کنٹرول نہ کرنے جیسے معاملات کا عوام کے درمیان اظہار کیا جارہا ہے ۔ صدر مجلس نے چارمینار کے امیدوار کے بھاری بھرکم ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امیدوار کی حالت پر نہ جائیں کیونکہ وہ پیدل دورہ میں دوسروں سے آگے نکل جاتے ہیں، پتہ نہیں ناشتے میں کیا کھاکر نکلتے ہیں۔ اس طرح کے ریمارکس سے امیدواروں میں کسی مجرم یا گناہ گار کی طرح احساس پیدا ہورہا ہے۔ اسد اویسی کی تقاریر اگرچہ عوام کیلئے تفریح کا باعث ہیں لیکن امیدواروں کے دلوں کی دھڑکن تیز ہوجاتی ہے کہ پتہ نہیں کہ وہ کس راز کا افشاء کردیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض امیدواروں نے اسد اویسی سے درخواست کی کہ ان کی شخصی مصروفیات کے بارے میں اظہار خیال نہ کریں۔ اسد اویسی کے جواب میں بعض دیگر پارٹیوں کے اسٹیج سے بھی کامیڈی نائیٹ کے فنکار اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوام کو ہنسانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ رائے دہندوں کا سوال ہے کہ آخر کب تک الیکشن کو مذاق کا موضوع بنایا جائے گا جبکہ الیکشن عوام کیلئے پانچ سال تک اپنے نمائندہ کو منتخب کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔