کے سی آر کو دونوں حلقہ جات سے شکست کی پیش قیاسی، عوام کی تائید میرے ساتھ
حیدرآباد۔/23 اگسٹ، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے سی آر کی جانب سے حلقہ اسمبلی کاماریڈی سے مقابلہ کے اعلان کے بعد پہلی مرتبہ سابق وزیر محمد علی شبیر کاماریڈی پہنچے جہاں عوام کی جانب سے ان کا والہانہ استقبال کیا گیا۔ پارٹی کارکنوں اور مقامی قائدین نے سینکڑوں کی تعداد میں محمد علی شبیر کو جلوس کی شکل میں مختلف مواضعات کا دورہ کرایا اور انتخابات میں مکمل تائید کا یقین دلایا۔ کاماریڈی میں محمد علی شبیر نے شاندار کامیابی کا دعویٰ کیا اور کہا کہ کاماریڈی کے عوام اور کے سی آر خاندان کے درمیان مقابلہ رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کو سابق میں کئے گئے وعدوں کی تکمیل کے بعد ہی کاماریڈی میں قدم رکھنا چاہیئے۔ بی بی پیٹ اور دومکنڈہ منڈلوں میں محمد علی شبیر کا والہانہ استقبال ہوا اور پالونچہ منڈل میں مدیراج سنگھم کے قائدین نے محمد علی شبیر کی تائید کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ کاماریڈی اور گجویل کے عوام دونوں حلقوں سے کے سی آر کو شکست سے دوچار کریں گے۔ کے سی آر نے دوسری میعاد کے دوران انتخابی وعدوں کی عدم تکمیل کے ذریعہ عوام کو دھوکہ دیا ہے۔ کاماریڈی کے ساتھ ناانصافی پرکے سی آر کو معذرت خواہی کرنی چاہیئے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ 115 امیدواروں میں مدیراج طبقہ کی کوئی نمائندگی نہیں ہے۔ کے سی آر نے کاماریڈی میں 1.50 لاکھ ایکر اراضی کو پانی سیراب کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن آج تک یہ وعدہ پورا نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ضلع میں کلکٹر آفس اور دیگر پراجکٹس کی تعمیر میں 120کروڑ کی دھاندلیاں ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر حلقہ جات تبدیل کرنے کے عادی ہیں اور ایک حلقہ سے کامیابی کے بعد وہاں کی ترقی پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ کاماریڈی کانگریس پارٹی کا گڑھ ہے اور وہ اسی سرزمین کے فرزند ہیں، اقتدار ہو یا اپوزیشن وہ ہمیشہ عوام کے درمیان رہے۔
