جائزہ حاصل کرنے کے بعد وزیر داخلہ محمود علی کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب
حیدرآباد۔7۔مئی۔(سیاست نیوز) محمد مسیح اللہ خان کو بہ اتفاق آراء صدرنشین تلنگانہ وقف بورڈ کیا گیااور انہوں نے اپنی نئی ذمہ داریوں کا جائزہ لیا بعد ازاں ریاستی وزیر داخلہ جناب محمد محمود علی نے حج ہاؤز میں واقع تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کے دفتر پہنچ کر نومنتخب صدرنشین جناب محمد مسیح اللہ خان کو مبارکباد پیش کی۔ تلنگانہ وقف بورڈ کے نومنتخبہ و نونامزدکردہ اراکین کا آج پہلا اجلاس برائے انتخاب صدرنشین مقرر ہوا ۔ اجلاس کی نگرانی چیف ایکزیکیٹیو آفیسر مسٹر شاہنواز قاسم نے کی جبکہ اجلاس کی صدارت کی ذمہ داری جناب زیڈ ایچ جاوید کو تفویض کی گئی تھی ۔ اجلاس کے آغاز پر جناب محمد فاروق حسین رکن قانون ساز کونسل نے جناب محمد مسیح اللہ خان کو تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کے صدرنشین بنائے جانے کی تجویز پیش کی۔ اس تجویز کی جناب ملک معتصم خان اور جناب کوثر محی الدین رکن اسمبلی کاروان نے تائید کی ۔ اجلاس میں مولانا ابولفتح سیدبندگی بادشاہ قادری ‘ مولانا سید نثار حسین حیدرآغا‘ جناب زیڈ ایچ جاوید‘ محترمہ یاسمین باشاہ آئی اے ایس موجود تھے۔ جناب محمد مسیح اللہ خان کے صدرنشین تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ منتخب کئے جانے کے عمل کی تکمیل کے ساتھ ہی اجلا س کی کاروائی کے اختتام کا اعلان کردیا گیا ۔ رکن پارلیمنٹ کے زمرہ میں منتخب ہونے والے رکن وقف بورڈ بیرسٹر اسدالدین اویسی رکن پارلیمنٹ حیدرآباد اور مولانا سید شاہ علی اکبر نظام الدین صابری سجادہ نشین درگاہ حضرت سید شاہ خاموش ؒ نامپلی نے نئے بورڈ کے پہلے اجلا س میں شرکت نہیں کی لیکن اس کے باوجود مطلوبہ تعداد میں ارکان کی موجودگی کے سبب اجلاس منعقد کرتے ہوئے صدرنشین کے انتخاب کے عمل کو مکمل کرلیا گیا ۔ جناب محمد مسیح اللہ خان نے ریاستی وزیر داخلہ جناب محمدمحمود علی کے ہمراہ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ درگاہ حسین شاہ ولی ؒ کی موقوفہ اراضی کے مقدمہ میں تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کی ناکامی کا جائزہ لینے کے اقدامات کئے جائیں گے اور جلد ہی سپریم کورٹ میں اس فیصلہ کے خلاف خصوصی درخواست کے ادخال کے سلسلہ میں ماہرین قانون سے مشاورت کی جائے گی۔ انہو ں نے بتایا کہ وہ اللہ راب العزت کی بارگاہ میں شکر ادا کرتے ہیں کہ اللہ نے انہیں تلنگانہ ریاستی حج کمیٹی کے بعد تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کی ذمہ داری سنبھالنے کا موقع دیا ہے ۔ جناب مسیح اللہ خان نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ ‘ جناب محمد محمود علی ‘ جناب محمدفاروق حسین کے علاوہ دیگر تلنگانہ راشٹر سمیتی قائدین کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان قائدین نے ان پر اعتماد کیا ہے اور وہ کوشش کریں گے کہ ان کے اعتماد کو کوئی ٹھیس نہ پہنچے۔ نومنتخبہ صدرنشین نے بتایا کہ بورڈ کے ارکان اور بورڈ کے ملازمین اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے لیکن ریاست تلنگانہ کے عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی جگہ وقف کی املاک کی تباہی پر خاموش نہ رہیں ۔ انہو ںنے کہا کہ وقف جائیدادیں اللہ کی امانت ہوتی ہیں اور تحفظ اوقاف کے معاملہ میں وہ اور دیگر ارکان بورڈ سنجیدگی کے ساتھ کام کریں گے۔ جناب محمد مسیح اللہ خان نے بتایا کہ ان کی اولین ترجیحات میں تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ میں عہدیداروں کی من مانی کا خاتمہ ‘ کارکردگی کو بہتر بنانے کے اقدامات کو یقینی بنانا اور ریاست کی اوقافی املاک کے تحفظ میں ہونے والی کوتاہیوں کو دور کرتے ہوئے بہتر انداز میں قانونی چارہ جوئی کرناشامل ہے۔ انہوںنے بتایا کہ اوقافی جائیدادو پر قبضہ جات یا ان کی تباہی پر خاموشی اختیار نہیں کی جائے گی بلکہ ایسا کرنے والوں کے خلاف کاروائی سے گریز نہیں کیا جائے گا۔جناب محمد مسیح اللہ خان نے کہا کہ ریاستی حکومت اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں سنجیدہ ہے اور تلنگانہ کے تمام اضلاع میں موجود اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے بہترین نظام تیار کرتے ہوئے صیانت اوقاف کو یقینی بنایا جائے گا۔ صدرنشین تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کی حیثیت سے جناب محمد مسیح اللہ خان کے انتخاب کے ساتھ ہی تلنگانہ راشٹریہ سمیتی قائدین اور کارکنوں کی جانب سے حج ہاؤز کے احاطہ میں مٹھائیاں تقسیم کی گئیں اور آتش بازی کی گئی ۔ جناب محمد فاروق حسین نے آتش بازی و سامع نوازی کرنے والے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ حج ہاؤز کے احاطہ میں یہ سرگرمیاں نہ کریں ۔ م