محمد یونس نے بنگلہ دیش میں ہندوؤں کی حفاظت کا یقین دلایا

   

نئی دہلی : بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر محمد یونس نے جمعہ کو وزیر اعظم نریندر مودی سے بات کی اور انہیں اپنے ملک میں ہندوؤں اور تمام اقلیتوں کے تحفظ اور سلامتی کا یقین دلایا۔مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں کہاکہ بنگلہ دیش کی حکومت کے چیف ایڈوائزر محمد یونس نے فون کیا تھا۔ موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال۔ ایک جمہوری، مستحکم، پرامن اور ترقی پسند بنگلہ دیش کے لیے ہندوستان کی حمایت کا اعادہ کیاگیا ۔ انہوں نے بنگلہ دیش میں ہندوؤں اور تمام اقلیتوں کے تحفظ اور سلامتی کی یقین دہانی کرائی۔ محمد یونس نے بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کی زیرقیادت حکومت کے خاتمے کے بعد 8 اگست کو عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر کے طور پر حلف اٹھایا۔یونس کے چارج سنبھالنے کے بعد مودی نے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور بنگلہ دیش میں ہندوؤں اور دیگر اقلیتی برادریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیا۔وزیر اعظم مودی نے جمعرات کو بھارت کے 78 ویں یوم آزادی کے موقع پر امید ظاہر کی تھی کہ تشدد سے متاثرہ بنگلہ دیش کی صورتحال جلد ہی معمول پر آجائے گی۔ انہوں نے کہا تھا کہ 140 کروڑ ہندوستانی پڑوسی ملک میں ہندوؤں اور اقلیتوں کے تحفظ و سلامتی کے بارے میں فکر مند ہیں۔

بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر تشدد کا دعویٰ ، ناسک میں تناؤ
ناسک : بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر یکایک ظلم و ستم کے نام پر ناسک میں آج دوپہر دو گروپوں کے درمیان جھگڑا ہوا۔ اس وقت پولیس نے حالات پر قابو پالیا۔ لیکن ماحول کے پرسکون ہونے کے بعد اب ایک بار پھر ناسک میں کشیدہ صورتحال پیدا ہوگئی ہے ۔ پولیس حالات کو قابو میں کرنے کی پوری کوشش کر رہی ہے ۔

لال قلعہ کی فصیل سے اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ہندوستان امن کے لیے پرعزم ہے اور بنگلہ دیش کے ترقیاتی سفر میں اس کا خیر خواہ رہے گا۔شیخ حسینہ حکومت کے خاتمے کے بعد سے بنگلہ دیش میں ہندو برادری کے افراد کے خلاف تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔. حسینہ نے وزیر اعظم کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا اور ملک چھوڑ کر 5 اگست کو ملازمتوں میں ریزرویشن کے متنازعہ نظام پر اپنی حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کے بعد ہندوستان آئی تھیں۔‘بنگلہ دیش نیشنل ہندو گرینڈ الائنس’، ایک غیر سیاسی ہندو تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ 5 اگست کو شیخ حسینہ کی زیرقیادت حکومت کے خاتمے کے بعد سے اقلیتی برادری کو 48 اضلاع میں 278 مقامات پر حملوں اور دھمکیوں کا سامنا ہے۔ تنظیم نے اسے ہندومت‘پر ’ حملہ قرار دیا ہے۔