محمود علی کا قانون سازکونسل میں پہلی مرتبہ داخلہ کانگریس کا احسان: محبوب عالم خاں

   

سکندرآباد لوک سبھا حلقہ میں دتاتریہ سے معاملت، مجھ پر الزامات عائد کرنے کی اوقات نہیں، گستاخی صحابہؓ کو چھپانے جھوٹ کا سہارا

حیدرآباد۔/21 نومبر ( سیاست نیوز)کانگریس کی تائید سے قانون سازکونسل کیلئے منتخب ہونے والے اور 2014 لوک سبھا انتخابات میں سکندرآباد سے برائے نام مقابلہ کے ذریعہ بی جے پی سے مفاہمت کرنے والوں کو مجھ پر تنقید کا کوئی حق نہیں۔ نواب محبوب عالم خاں نے وزیر داخلہ محمد محمود علی کی جانب سے ان پر عائد کردہ الزامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا اور کہا کہ کانگریس کا احسان ہے کہ اس نے 2013 میں ٹی آر ایس کی کم تعداد کے باوجود اپنے ارکان کے ذریعہ محمود علی کی تائید کرتے ہوئے کامیابی کو یقینی بنایا تھا۔ سابق وزیر محمد علی شبیر نے پارٹی ہائی کمان اور اس وقت کے چیف منسٹر سے بات چیت کرتے ہوئے محمود علی کی کامیابی کی راہ ہموار کی تھی۔ آج کانگریس کے احسان مند ہونے کے بجائے محمود علی کانگریس کو مسلمانوں کا دشمن قرار دے رہے ہیں۔ محبوب عالم خاں نے کہا کہ کے سی آر کی بی جے پی سے خفیہ مفاہمت کوئی نئی بات نہیں ہے۔ 2014 لوک سبھا انتخابات میں محمود علی کو سکندرآباد لوک سبھا حلقہ سے امیدوار بنایا گیا اور بنڈارو دتاتریہ سے درپردہ معاملت کرتے ہوئے بی جے پی کی کامیابی کی راہ ہموار کی۔ دوسری طرف محمود علی نے کانگریس کے امیدوار انجن کمار یادو سے خفیہ ملاقاتیں کی تھیں۔ ان تمام حقائق سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور ایسے افراد جن کا کردار بکاؤ رہا وہ آج مجھ پر انگشت نمائی کررہے ہیں جبکہ میری زندگی بے داغ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محمود علی کو ہمیشہ کانگریس کا احسان مند ہونا چاہیئے جس نے قانون ساز کونسل میں داخلہ کو یقینی بنایا۔ اس سے قبل قانون ساز کونسل کے انتخابات میں محمود علی کو ایک مرتبہ شکست ہوچکی ہے اور ان کی سیاسی زندگی کا آغاز کارپوریٹر کے الیکشن میں شکست کے ذریعہ ہوا۔ جو شخص کارپوریٹر تک منتخب نہیں ہوسکا اور کانگریس کے احسان تلے قانون ساز کونسل میں داخل ہوا وہ آج اپنی اوقات بھول کر مجھے اوقافی جائیدادوں کے معاملہ میں مورد الزام ٹہرا رہا ہے۔ محبوب عالم خاں نے کہا کہ محمود علی کا ٹی آر ایس میں داخلہ دراصل میرے دوست ابراہیم بن عبداللہ مسقطی مرحوم کا احسان ہے اور اگر وہ ٹی آر ایس میں شمولیت کی ترغیب نہ دیتے تو محمود علی آج بھی اعظم پورہ میں دودھ فروخت کرتے ہوئے پائے جاتے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ دس برسوں میں محمود علی مسلمانوں کی بھلائی کے بارے میں ایک بھی کارنامہ بیان نہیں کرسکتے۔ کے سی آر اور کے ٹی آر کے ہاتھ چومنا اور روزانہ امام ضامن لے کر گھومنے کے سوا کوئی کام نہیں اور یہی وجہ ہے کہ عوام میں ان کا نام منسٹر فار امام ضامن پڑ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر سے قربت کا دعویٰ کرنے والے محمود علی یہ بتائیں کہ آخری مرتبہ انہوں نے چیف منسٹر سے کب ملاقات کی تھی۔ ایک مرتبہ پرگتی بھون میں انہیں وزیر داخلہ کی حیثیت سے داخلہ سے روک دیا گیا تھا جس کا ویڈیو الیکٹرانک میڈیا میں وائرل ہوچکا ہے۔ جناب محبوب عالم خاں نے کہا کہ کے سی آر کو حضرت عمر بن خطاب ؓ سے تقابل کرتے ہوئے محمود علی گستاخ صحابہ ؓ کی فہرست میں شامل ہوچکے ہیں۔ انہوں نے چیلنج کیا کہ اگر کریم نگر کی تقریر کو کسی نے تبدیل کرتے ہوئے وائرل کیا ہے تو اسے جانچ کیلئے فارنسک لیب بھیجا جائے جس کے تمام اخراجات وہ برداشت کرنے کیلئے تیار ہیں۔ ایک جھوٹ کو نبھانے کیلئے محمود علی روزانہ کئی جھوٹ کا گناہ مول لے رہے ہیں۔ محبوب عالم خاں نے کہا کہ وہ محمود علی اور ان کے سیاہ کارناموں کے بارے میں بہت جلد تفصیلی پریس کانفرنس کریں گے۔