’محکمہ آثارقدیمہ کے ماہرین کی رپورٹ محض معمولی رائے نہیں‘

,

   

قابل ذہنوں نے ایودھیا کے متنازعہ مقام پرکھدوائی سے دستیاب اشیاء پر نتیجہ اخذ کیا ہے : سپریم کورٹ

بابری مسجد ۔ رام جنم بھومی

نئی دہلی ۔ 27 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے جمعہ کو کہا کہ رام جنم بھومی۔ بابری مسجد پر محکمہ آثارقدیمہ ہند کی طرف سے 2003ء میں دی گئی رپورٹ محض کوئی ’’معمولی رائے‘‘ نہیں کیونکہ آثارقدیمہ کے ماہرین نے کھدائی کے دوران برآمد شدہ مواد پر اپنی الہ آباد ہائیکورٹ کی ایماء پر عمل کرتے ہوئے یہ رائے دی تھی۔ ہائیکورٹ نے اپنے کورٹ کمشنر کے ذریعہ 2002ء میں محکمہ آثارقدیمہ ہند (اے ایس آئی) سے 2002ء میں اس مقام کی کھدائی کرنے اور اس بات پر اپنی تفصیلات پیش کرنے کیلئے کہا تھا کہ آیا کسی ہندو مندر کو منہدم کرنے کے بعد اس مقام پر ’یہ متنازعہ عمارت‘ تعمیر کی گئی تھی۔ محکمہ آثارقدیمہ نے دستیاب شدہ اس مقام سے مختلف اشیاء، مورتیاں، ستون اور دیگر باقیات وغیرہ کی بنیاد پر ’بابری مسجد‘ کی تہہ کے نیچے ایک بڑے تعمیراتی ڈھانچہ کی موجودگی کے بارے میں رپورٹ دی تھی۔ مسلم فریقوں کے وکیل کی طرف سے آثارقدیمہ کی رپورٹ کو محض ’ایک معمولی رائے‘ اور عدالت کیلئے ناقابل پابندی قرار دیئے جانے پر چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی قیادت میں 5 ججوں پر مشتمل دستوری بنچ نے کہا کہ رپورٹ کے اقتباسات اور اہم خاکے انتہائی معلومات یافتہ، قابل و تجربہ کار ذہنوں (آثار قدیمہ کے ماہرین) نے دیئے ہیں‘‘۔ اس بنچ نے جس میں جسٹس ایس اے بوبڈے، جسٹس ڈی وائی چندراچوڑ، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایس عبدالنذیر بھی شامل ہیں، کہاں کہ ’’آپ (مسلم فریقوں کے وکیل) (کورٹ) کمشنر کی رپورٹ کہ کسی بھی دوسری معمولی رائے سے مساوی نہیں کرسکتے۔ انہوں (آثارقدیمہ کے ماہرین) نے یہ (کھدائی) کی جب (کورٹ) کمشنر نے ان سے اس کیلئے کہا تھا‘‘۔

کمشنر کو ہائیکورٹ کی طرف سے اختیارات دیئے گئے تھے اور انہوں نے آثارقدیمہ کے ماہرین کو یہ ہدایت کی تھی۔ سیاسی طور پر حساس مذہبی عبادتگاہ کے اس مقدمہ کی یومیہ سماعت کے 33 ویں دن کہا کہ ’’ہم جانتے ہیں کہ دونوں طرف کے وکلاء محض حوالوں کی بنیاد پر بحث کررہے ہیں کیونکہ ان کے پاس ان واقعات کا کوئی چشم دید گواہ نہیں ہے۔ سینئر ایڈوکیٹ میناکشی اروڑہ نے سنی وقف بورڈ اور دیگر مسلم فریقوں کی طرف سے رجوع ہوتے ہوئے کہ اکہ محکمہ آثارقدیمہ کی رپورٹ ایک ’’کمزور ثبوت‘‘ اور محض ایک معمولی رائے ہے۔ نیز متنازعہ مقام پر رام مندر کی موجودگی کے ثبوت کیلئے مزید ثبوت درکار ہوں گے۔ مسلم فریقوں کی وکیل میناکشی اروڑہ نے کہا کہ اس رپورٹ کو قابل لحاظ ثبوت متصور نہیں کیا جاسکتا۔ مسلم فریقوں کے ایک اور وکیل شیکھر ناپ ہاڑے نے قانونی اصولوں کی بنیاد پر اپنی بحث کو آگے بڑھا دیا اور کہاکہ ایک ہی نوعیت کے مقدمہ کو کسی سیول عدالت میں دو مرتبہ نہیں چلایا جاسکتا۔