محکمہ اسٹامپ و رجسٹریشن کی آمدنی 2514 کروڑ گھٹی

   

جی ایس ٹی کی آمدنی میں 2971 کروڑ روپئے کی کمی
سی اے جی کی رپورٹ

حیدرآباد :۔ گذشتہ سال کے بہ نسبت جاریہ سال تلنگانہ محکمہ اسٹامپس اینڈ رجسٹریشن کی آمدنی بڑی حد تک گھٹ گئی ہے ۔ ریاست میں تقریبا تین ماہ تک رجسٹریشن کا عمل روک دینے سے اس کا گہرا اثر پڑا ہے ۔ کاگ رپورٹ میں نومبر تک حکومت کی آمدنی اور تخمینی لاگت کا احاطہ پیش کیا گیا ہے ۔ جس کے مطابق گذشتہ سال ( 2019-20 ) نومبر تک محکمہ اسٹامپس اور رجسٹریشن کی آمدنی 4289 کروڑ جو رواں سال کے نومبر تک 1775 کروڑ روپئے کی آمدنی حاصل ہوئی ہے ۔ یعنی 2514 کروڑ روپئے آمدنی گھٹ گئی ہے ۔ دراصل جاریہ سال محکمہ رجسٹریشن سے 10 ہزار کروڑ روپئے کی آمدنی ہونے کا اندازہ لگایا گیا تھا ۔ لیکن جاریہ مالیاتی سال کے پہلے 8 ماہ میں صرف 1775 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی ہے ۔ ساتھ ہی اس سال جی ایس ٹی کی آمدنی بھی بڑی حد تک گھٹ گئی ہے ۔ جو اندازہ لگایا گیا تھا ۔ اس کی نصف آمدنی بھی حاصل نہیں ہوئی ہے ۔ جاریہ مالیاتی سال کے پہلے 8 ماہ میں 46.67 فیصد جی ایس ٹی آمدنی ہوئی جب کہ جاریہ سال 32,671 کروڑ روپئے کی آمدنی ہونے کا اندازہ لگایا گیا تھا ۔ لیکن 15,247 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی ہے ۔ گذشتہ سال نومبر تک حکومت کو 18,218 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی تھی ۔ گذشتہ سال کے بہ نسبت جاریہ سال 2971 کروڑ روپئے کی آمدنی گھٹ گئی ہے ۔ جاریہ مالیاتی سال 2020-21 اپریل سے نومبر تک یعنی پہلے 8 ماہ کے دوران ریاستی حکومت کو جملہ 84,207 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی ہے ۔