محکمہ اقلیتی بہبود لاوارث ادارہ میں تبدیل، وزیر اور سکریٹری کی عدم دلچسپی اور عوام مشکلات سے دوچار

   

۔25 جنوری کو ریاست تلنگانہ اقلیتی کمیشن و حج کمیٹی کے صدور نشین کے مدت معیاد کا اختتام
حیدرآباد۔صدرنشین حج کمیٹی مسیح اللہ کی 25 جنوری کو مدت معیاد تکمیل ہورہی ہے۔ اسکے علاوہ اقلیتی کمیشن جناب قمرالدین کی معیاد بھی 20 جنوری کو اختتام پذیر ہے۔ان دونوں کو اپنے معیاد کو بڑھانے کیلئے کسی بھی ادارہ کو اختیار نہیں ہے کیونکہ ان کا انتخاب ایک منتخبہ ادارے کی جانب سے ہوتا ہے۔اس کے علاوہ صدر نشین اقلیتی مالیاتی کارپوریشن اکبر حسین اور کھادی بورڈ چیرمین یوسف زاہد اور چیرمین سیٹ ون کو بھی انکی تکمیل معیاد پر سبکدوش کردیا گیاتھا۔ان دنوں عہدوں کیلئے مختلف افراد اور موجودہ صدور اپنی اپنی معیاد کو بڑھانے کیلئے وزراء کے دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں۔سیاست میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔کے سی آر اگر چاہیں تو انکی معیاد کی توسیع کی جاسکتی ہے۔لیکن مسلمانوں کو درپیش مسائل کی یکسوئی اور انکے حل کی سنجیدگی رکھنے والے افراد ہی ان عہدوں کے اہل ہوسکتے ہیں۔لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ آج تک کوئی بھی قائد چیف منسٹر سے رجوع ہوکر اقلیتوں کے حقوق سے متعلق کوئی بھی ٹھوس نمائندگی نہ ہی کی ہے اور نہ ہی انہوں نے کوئی سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے۔کیونکہ ان افراد کو صرف اپنی کرسی سے محبت اور لگائو ہے۔ جب کہ محکمہ اقلیتی ادارہ ایک لاوارث ادارہ میں تبدیل ہوتا جارہا ہے۔اس کے قصوروار ریاستی وزیر اقلیتی بہبود وزیر کپلہ ایشور ہیں جو نہ صرف غیر اردو داںہیں بلکہ مسلمانوں کو درپیش مسائل کو حل کرنے کی اہلیت بھی نہیں رکھتے۔حال ہی میں وقف بورڈ کی جانب سے موٹر گاڑیوں کی تقسیم کی تقاریب کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں وہ شرکت سے قاصر تھے۔ان کے نقش قدم پر اقلیتی سکریٹری احمد ندیم بھی ہیں جنہوں نے آج تک نہ تو کوئی وقف بورڈ کی میٹنگ میں شرکت کی اور نہ ہی کوئی اقلیتی ادراوں سے متعلق اسکیمات پر غور و خوص کیا۔عرصہ دراز سے محکمہ اقلیتی بہبود میں صرف انچارج آفیسرس کا ہی تقرر کیا گیا ہے۔اقلیتی مالیتی کارپوریشن انچارج محکمہ اقلیتی بہبود انچارج اور ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی کے علاوہ کئی اہم عہدے جو انچارج آفیسرس سے بھرے پڑے ہیں۔ان افراد کو مسلمانوں کو درپیش مسائل سے نہ ہی دلچسپی ہے اور نہ ہی وہ ان کو حل کرنا چاہتے ہیں۔سی ای او وقف بورڈ شاہنواز قاسم جنہوں نے حال ہی میں جائزہ حاصل کیا ہے وہ اپنا زیادہ تر وقت ڈائرکٹر میناریٹی ویلفیر کے دفتر پر گذار رہے ہیں اور وہ کسی سے بھی ملنا گوارہ نہیں کرتے کیونکہ وہ ایک سینئرآئی پی ایس آفیسر ہیں۔ان دنوں وہ طویل رخصت پر ہیں جب کہ وقف بورڈ میں کسی آفیسر سے ملاقات کرنے کیلئے عوام بے چین ہیںلیکن سکریٹری اقلیتی بہبود کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ تلنگانہ چیف منسٹر کے سی آر اقلیتی کے تئیں ہمدردی کا اگر جذبہ رکھتے ہوں تو وہ فوری طور پر کسی ایسے فرد کو محکمہ اقلیت بہبود کا قلمدان سونپے جس کا تعلق اقلیتی فرقہ سے ہو اور سکریٹری اقلیتی بہبود کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھی ہر ہفتہ ایک اجلاس منعقد کرکے اقلیتی افراد کو درپیش مسائل کا جائزہ لیں کیونکہ اکثر اقلیتی افراد حکومتی کی جانب سے فرہم کردہ سہولتوں اور قرضہ جات کی اسکیمات سے نا واقف ہیں۔