محکمہ اقلیتی بہبود کا ٹوئیٹر ہینڈل نظرانداز

   

اقلیتوں کے مسائل کی یکسوئی کیلئے چیف منسٹر سے متعدد نمائندگیاں بے فیض

حیدرآباد۔14۔جون(سیاست نیوز) ریاستی وزیرانفارمیشن ٹکنالوجی مسٹر کے ٹی راما راؤ تلنگانہ کو ملک کی نمبر ون آئی ٹی ریاست بنانے کے علاوہ سوشل میڈیا کے ذریعہ عوام سے رابطہ اور ان کے مسائل کے حل کے اقدامات کی بات کرتے ہیں اور تلنگانہ کے بیشتر محکمہ جات فیس بک کے علاوہ ٹوئیٹر کے ذریعہ عوام سے راست رابطہ میں آتے ہوئے ان کے مسائل کے حل پر توجہ دے رہے ہیں لیکن محکمہ اقلیتی بہبود تلنگانہ کا اب تک کوئی ٹوئیٹر ہینڈل نہیں ہے اور اس محکمہ کے تحت خدمات انجام دینے والے اداروں کے ٹوئیٹر ہینڈل سرگرم ہیں۔ محکمہ اقلیتی بہبود میں زیر التواء شکایات اور مسائل کے سلسلہ میں حکومت کی توجہ مبذول کروانے کے لئے متعدد مرتبہ ٹوئیٹر پر چیف منسٹر تلنگانہ کے علاوہ ریاستی وزیر کے ٹی راما راؤ کو ٹیاگ کیا جاتا ہے لیکن ان کی جانب سے اقلیتی مسائل کے معاملہ میں کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا جاتا بلکہ مکمل طور پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے ۔محکمہ بلدی نظم و نسق‘ محکمہ انفارمیشن ٹکنالوجی ‘ محکمہ تعلیم ‘ محکمہ صحت کے علاوہ دیگر محکمہ جات کے ٹوئیٹر ہینڈل کے علاوہ ان محکمہ جات میں خدمات انجام دینے والے عہدیداروں کے ٹوئیٹر ہینڈل کے ذریعہ انہیں موصول ہونے والی شکایات کے جواب دیئے جاتے ہیں اور ان کے حل کے لئے اپنے ماتحتین کو ہدایات جاری کی جاتی ہیں لیکن محکمہ اقلیتی بہبود میںچند یوم کے لئے بعض اداروں کی جانب سے ٹوئیٹر کے استعمال کا آغاز کیا گیا تھا لیکن اب محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت خدمات انجام دینے والے ادارو ں میں صرف ٹمریز کا ٹوئیٹر ہینڈل کارکرد ہے جبکہ کسی اور ادارہ یا عہدیدار کی جانب سے سوشل میڈیا کے استعمال کے ذریعہ شکایات کی وصولی اور ان پر کاروائی کا رجحان نہیں ہے ۔ریاستی حکومت کے محکمہ انفارمیشن ٹکنالوجی کی جانب سے ریاست کے تمام محکمہ جات کو اس بات کی ہدایات بھی دی گئی تھیں کہ وہ اپنے اداروں کے ٹوئیٹر ہینڈل شروع کرتے ہوئے شکایات وصول کریں۔م