حکومت بھی ذمہ دار ، بجٹ کی اجرائی پر حد بندی
حیدرآباد۔16 نومبر(سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر عدم عمل آوری کے لئے محکمہ فینانس ہی نہیں بلکہ ریاستی حکومت بھی ذمہ دارہے کیونکہ ریاستی حکومت کی جانب سے محکمہ اقلیتی بہبود کے لئے جاری کردہ زبانی احکامات کے سبب محکمہ فینانس اور ٹریژری کی جانب سے بجٹ کی اجرائی پر حد نافذ کی گئی ہے۔ ریاستی حکومت کے اعلیٰ عہدیدارو ںکی جانب سے دی جانے والی ہدایات کے مطابق محکمہ اقلیتی بہبود کے اخراجات پر حد لگاتے ہوئے انہیں ماہانہ 8کروڑ تک محدود کیا جائے ۔ ریاستی حکومت کی جانب سے جاری کئے جانے والے ان زبانی احکامات کے سبب محکمہ اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر مؤثر عمل آوری نہیں ہوپارہی ہے اور اس صورتحال کی وجہ سے کئی اسکیمات کو زیر التواء رکھنے پر مجبور ہونا پڑرہاہے۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ریاستی حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے دور میں آمدنی میں ریکارڈ کی جانے والی گراوٹ کا جائزہ لینے کے بعد کئے گئے فیصلہ کے مطابق ریاست کے بیشتر محکمہ جات کیلئے یہ زبانی احکامات جاری کئے گئے تھے لیکن دیگر محکمہ جات کے متعلق ان احکامات سے بتدریج دستبرداری اختیار کرلی گئی ہے لیکن محکمہ اقلیتی بہبود پر یہ حد اب بھی موجود ہے اسی لئے محکمہ اقلیتی بہبود کے مختلف ادارۂ جات اور اسکیمات کے لئے بجٹ کی اجرائی کے سرکاری احکامات کے باوجود ماہانہ 8 کروڑسے زائد کے اخراجات نہ کرنے کی شرط کی وجہ سے محکمہ فینانس اور ٹریژری میں بلز کی یکسوئی میں رکاوٹیں پیدا ہورہی ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ اگر ریاستی حکومت کی جانب سے 8 کروڑ ماہانہ اخراجات کی شرط کو برخواست کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں تمام اسکیمات پر عمل آوری اور ان کے لئے بجٹ کی اجرائی کے اقدامات ہوسکتے ہیں ۔ محکمہ فینانس کے ذرائع نے اس بات کی توثیق کی ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے جاری کئے جانے والے زبانی احکامات کے سبب گذشتہ ایک سال سے بجٹ کی اجرائی کے سرکاری احکامات جاری کئے جانے کے باوجود مختلف محکمہ جات کیلئے 8 کروڑ سے زیادہ رقم جاری نہیں کی جا رہی تھی لیکن اب بیشتر محکمہ جات کے اخراجات کو بحال کرنے کے اقدامات کئے جاچکے ہیں لیکن محکمہ اقلیتی بہبود کے لئے اب بھی یہ حد برقرارہے اسی لئے محکمہ اقلیتی بہبود کے لئے بجٹ کی اجرائی کے احکامات کے باوجود فینانس میں بلز زیر غور رکھے جا رہے ہیں اور مقررہ حد کی رقومات کے بلز کو منظوری دی جارہی ہے۔م