محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی ٹھپ، عہدیداروں کی رپورٹ پر چیف منسٹر کی برہمی

   

مسلمانوں کی بے چینی سے چیف منسٹر کو واقف کرایا گیا۔ عہدیداروں کی عدم دلچسپی ‘وزراء میں سرد جنگ

حیدرآباد 5 جولائی (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے عنقریب جائزہ اجلاس طلب کرنے اور اہم تبدیلیوں کا اشارہ دیا ہے۔ گزشتہ دو برسوں سے اقلیتی بہبود کی اسکیمات عملاً ٹھپ ہوچکی ہیں اور محکمہ کے عہدیداروں کو بجٹ کے حصول میں کوئی دلچسپی نہیں جس کا خمیازہ عام اقلیتوں کو بھگتنا پڑرہا ہے۔ محکمہ کی کئی اہم اسکیمات جیسے اوورسیز اسکالرشپس، فیس ری ایمبرسمنٹ، شادی مبارک، ائمہ مؤذنین کا اعزازیہ، خود روزگار اسکیمات کے تحت قرض کی فراہمی اور دیگر اسکیمات بجٹ کی عدم اجرائی کے نتیجہ میں گزشتہ دو برسوں سے عمل آوری سے قاصر ہیں۔ اقلیتوں میں پھیلی بے چینی کے بارے میں عہدیداروں نے چیف منسٹر کو واقف کروایا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے اِس سلسلہ میں متعلقہ وزیر کے ایشور سے بات چیت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف منسٹر کو بتایا گیا کہ ایس سی ۔ ایس ٹی طبقات کی بھلائی سے متعلق اسکیمات پر عمل آوری جاری ہے لیکن وہی اسکیمات جو اقلیتوں کے لئے مختص کی گئی تھیں، اُن کے لئے بجٹ کی اجرائی اہم مسئلہ بن چکا ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود کی ذمہ داری ہے کہ وہ بجٹ کی اجرائی کے لئے محکمہ فینانس کے عہدیداروں سے ربط میں رہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سکریٹری اقلیتی بہبود کو ابتداء سے ہی محکمہ اقلیتی بہبود میں خدمات انجام دینے سے دلچسپی نہیں اور وہ اِس کا بارہا اظہار کرچکے ہیں۔ بجٹ کی اجرائی کے لئے سکریٹری کا محکمہ فینانس کے عہدیداروں سے بہتر تال میل ضروری ہے۔ چیف منسٹر کو بتایا گیا کہ محکمہ کی کارکردگی متاثر ہونے کی ایک اور اہم وجہ اقلیتی اداروں میں قابل اور اہل عہدیداروں کی کمی ہے۔ دیگر محکمہ جات میں خدمات انجام دینے والے اقلیتی طبقہ کے عہدیدار اقلیتی اداروں میں کام کرنے تیار نہیں ہیں جس کے نتیجہ میں حکومت کو غیر اقلیت یا پھر کم اہلیت والے عہدیدار پر انحصار کرنا پڑرہا ہے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن جہاں کئی اہم اسکیمات ہیں، وہاں غیر اقلیتی عہدیدار کو فائز کیا گیا۔ چیف منسٹر نے اپنے دفتر کے ایک اعلیٰ عہدیدار سے اقلیتی اُمور کے بارے میں تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے، ساتھ میں یہ ہدایت دی گئی کہ محکمہ کو متحرک کرنے کے لئے تجاویز پیش کریں۔ ذرائع کے مطابق دو ریاستی وزراء کے درمیان اقلیتی اُمور پر سرد جنگ نے محکمہ کی کارکردگی کو متاثر کیا ہے۔ وزیر اقلیتی بہبود کے ایشور نہیں چاہتے ہیں کہ کسی اور وزیر کی مداخلت ہو۔ گزشتہ دنوں اقلیتی فینانس کارپوریشن سے کاروں کی تقسیم کی تقریب نے دو وزراء میں جاری سرد جنگ میں شدت پیدا کردی ہے۔ ایک مرحلہ پر وزیر اقلیتی بہبود راستہ سے ہی اپنی قیامگاہ واپس ہوگئے۔ اُنھیں اِس بات پر اعتراض تھا کہ اُن کی آمد سے قبل ہی وزیرداخلہ نے تقریب کی کارروائی شروع کردی تھی۔ چیف منسٹر کے دفتر کی مداخلت کے بعد کے ایشور دو گھنٹے تاخیر سے تقریب میں پہونچے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے حضورآباد اسمبلی حلقہ کے ضمنی چناؤ کے سلسلہ میں کے ایشور کو آئندہ دو ماہ تک حضورآباد میں قیام کی ہدایت دی ہے۔ اِن حالات میں اقلیتی بہبود محکمہ کی کارکردگی کا کیا ہوگا؟ اس بارے میں ہر کوئی فکرمند دکھائی دے رہا ہے۔ عہدیداروں نے چیف منسٹر کو تجویز پیش کی کہ سابق کی طرح اقلیتی بہبود کا قلمدان اپنی نگرانی میں رکھیں تاکہ بجٹ کی اجرائی اور عہدیداروں کو آزادانہ کام کرنے کا موقع ملے ۔ امکان ہے کہ چیف منسٹر عنقریب عہدیداروں کی تجاویز پر غور کرکے کوئی فیصلہ کریں گے۔