مائیکرو بیوریجز پرمٹس میں کانگریس کے سینئر قائد کو 21 اور وزیر کو 4 کوٹہ مختص
حیدرآباد : /28 جنوری (سیاست نیوز) بی آر ایس کے رکن اسمبلی سابق ریاستی وزیر ٹی ہریش راؤ نے سنسنی خیز الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں ایک اور بڑا اسکام منظر عام پر آیا ہے ۔ ہریش راؤ نے آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ کے محکمہ ایکسائز کے تحت ایک بڑے قائد اور وزارتی کوٹہ کے نام پر بڑے پیمانے پر بدعنوانی ہوئی ہے ۔ ریاست میں مائیکرو بیوریجز کیلئے نئے پرمٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ جس کیلئے 110 درخواستیں وصول ہوئی مگر ابتدائی طور پر صرف 25 پرمیٹس دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ جس میں وزارتی کوٹہ کے تحت 4 اور 21 پرمٹس ایک بڑے سینئر قائد کے کوٹے میں دیئے گئے ہیں ۔ ہریش راؤ نے دعویٰ کیا کہ متعلقہ قائد حالیہ دنوں میں ایک سینئر قائد کے گھر پر مقیم رہا اور وہ مسلسل خبروں میں بھی رہا ہے ۔ ایک مخصوص کار براہ راست سینئر قائد کے گھر جاتی ہے اور جب بھی سینئر قائد تروپتی کے دورے پر جاتا ہے تو مذکورہ لیڈر سائے کی طرح اس کے پیچھے رہتا ہے ۔ ہریش راؤ نے کہا کہ ایک بریوری کی قیمت 1.80 کروڑ روپئے طئے کی گئی جس میں 1.5 کروڑ روپئے سینئر قائد کیلئے اور باقی 30 لاکھ روپئے سائے کی طرح ساتھ رہنے والے قائد کیلئے رکھے گئے تھے ۔ ہریش راؤ نے استفسار کیا کہ جب مائیکرو بیوریجز کیلئے 110 درخواستیں موصول ہوئیں تو شراب کی دکانات کی طرح لاٹری سسٹم کیوں نہیں اپنایا گیا ۔ شفاف طریقہ سے جان بوجھ کر گریز کیا گیا ۔ انہوں نے حکومت پر الزام لگایا گیا کہ اس وقت شراب سپلائی کرنے والی کمپنیوں کے تقریباً 4500 کروڑ روپئے کے بقایا جات ہیں ۔ چند واجبات 16 ماہ سے بھی زیادہ عرصے سے زیرالتواء ہیں ۔ جبکہ بی آر ایس کے دور حکومت میں 15 دنوں میں ادائیگیاں کردی جاتی تھیں ۔ 2