حکومت برقی بلس میں رعایت کے لیے تیار نہیں
حیدرآباد۔شہر میں برقی بلوں کے مسائل کو حل کرنے کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے کسی قسم کی کوئی پیشرفت نہ کئے جانے کے سبب تلنگانہ اسٹیٹ سدرن پاؤر ڈسٹریبیوشن لمیٹڈ کو معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے کیونکہ لاک ڈاؤن کے دوران کے برقی بلوں کی اجرائی کے بعد شہریوں کی جانب سے بھاری بلوں کی اجرائی کے سبب بلوں کی ادائیگی نہیں کی ہے اور کہا جار ہاہے کہ تاحال 60فیصد بھی بقایاجات وصول نہیں ہوپائے ہیں جو کہ ٹی ایس ایس پی ڈی سی ایل کے لئے پریشان کن صورتحال کا سبب بن سکتا ہے ۔لاک ڈاؤن کی مدت کے دوران جو برقی استعمال کی گئی ہے اس کے بلوں کی اجرائی کے بعد حکومت کی جانب سے اس میں کسی قسم کی رعایت فراہم نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور اقساط میں بلوں کو مکمل ادا کرنے کی سہولت فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا جبکہ مختلف گوشوں کی جانب سے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ لاک ڈاؤن کی مدت کے دوران مستعملہ برقی پر کم از کم 50فیصد رعایت فراہم کی جائے کیونکہ لاک ڈاؤن کے دوران تجارتی سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ رہیں اور اس کے بعد سے بھی تجارت میں کوئی فروغ دیکھا نہیں جار ہاہے بلکہ معاشی حالات روبہ زوال ہوتے جار ہے ہیں۔تلنگانہ اسٹیٹ سدرن پاؤر ڈسٹربیوشن لمیٹیڈ کے عہدیدارو ںکا کہناہے کہ کمپنی کی جانب سے برقی بقایا جات وصول کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں لیکن عوام کی جانب سے جو مسائل پیش کئے جا رہے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا رہاہے کہ 30 فیصد سے زائد بقایاجات وصول ہونے کے امکانات نہیں ہیں لیکن ٹی ایس ایس پی ڈی سی ایل کی جانب سے اس سلسلہ میں کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا ۔ریاستی حکومت کی جانب سے برقی بلوں میں رعایت کے فیصلہ کے متعلق مسلسل استفسار کے بعد یہ واضح کردیا گیا ہے کہ ریاستی حکومت جن معاشی کا نقصانات کا سامنا کر رہی ہے ان کے درمیان ٹی ایس ایس پی ڈی سی ایل کو مزید نقصان میں مبتلاء کرنے کے موقف میں نہیں ہے اسی لئے ریاستی حکومت کی جانب سے برقی بلوں کی معافی یا ان میں 50 فیصد کی رعایت کے لئے کئے جانے والے مطالبہ کو یکسر نظرانداز کیا جا رہا ہے اور کہا جا رہاہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران استعمال کی گئی برقی کے بل مکمل ادار کرنا صارفین کیلئے لازمی ہے ۔