محکمہ بہبودی خواتین و اطفال کے تحت والدین سے محروم بچوں کی نگہداشت

   

9 بچے والدین سے محروم، گود لینے کیلئے محکمہ کو مختلف درخواستیں، مزید 17 بچے چائیلڈ کیئر سنٹر میں
حیدرآباد۔ تلنگانہ میں کورونا کی دوسری لہر نے اگرچہ کئی خاندانوں کو سرپرستوں سے محروم کردیا لیکن 9 ایسے کمسن اور شیر خوار بچے ہیں جو اپنے والدین سے محروم ہوگئے جبکہ 17 ایسے شیر خوار ہیں جن کے والدین میں سے کسی ایک کی کورونا سے موت واقع ہوگئی۔ محکمہ بہبودی خواتین و اطفال نے یتیم ہونے والے بچوں کی تفصیلات کے حصول کیلئے ہیلپ لائن قائم کیا ہے جس کو موصولہ اطلاعات کے مطابق ریاست میں کورونا کی دوسری لہر سے کئی بچے بے یارومددگار ہوچکے ہیں۔ محکمہ بہبودی خواتین و اطفال کو 19 اپریل تا 18 مئی ہیلپ لائن پر جو تفصیلات حاصل ہوئی ہیں اس کے مطابق والدین سے محروم یہ بچے اپنے قریبی رشتہ داروں کے پاس مقیم ہیں۔ والدین سے محرومی کا غم کسی قدر مندمل ہونے اور ان کے صدمہ سے اُبھرنے کے بعد انہیں چائیلڈ کیئر سنٹرس منتقل کیا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ والدین سے محروم ہونے والے بیشتر بچوںکی عمر 10 سے 18 سال کے درمیان ہے۔ عہدیداروں کے مطابق والدین سے محروم 9 میں 4 بچے چائیلڈ کیئر سنٹرس میں پرورش پارہے ہیں جبکہ 5 کی نگہداشت ان کے قریبی رشتہ دار کررہے ہیں۔ بعض بچوں کی نگہداشت کرنے والے افراد نے بتایا کہ 11 دن کی رسومات کی تکمیل کے بعد وہ بچوں کو چائیلڈ ویلفیر ڈپارٹمنٹ کے تحت چلنے والے سنٹر روانہ کردیں گے۔ محکمہ بہبود خواتین و اطفال کی سکریٹری دیویا دیوا راجن نے بتایا کہ پہلی لہر کے دوران اس طرح کے واقعات محکمہ کے علم میں نہیں آئے تھے۔ چونکہ پہلی لہر میں زیادہ تر فوت ہونے والوں کی عمر 60 سال سے زائد تھی ۔ دوسری لہر میں کم عمر کے افراد زیادہ متاثر ہوئے ہیں لہذا ڈپارٹمنٹ کو والدین یا پھر ان میں سے کسی ایک سے محروم ہونے والے بچوں کے بارے میں اطلاعات مل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چائیلڈ ہیلپ لائن کے علاوہ مختلف دواخانوں اور این جی اوز کی جانب سے اس طرح کے معاملات کی اطلاع دی گئی ہے۔ تلنگانہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسیس کی سپرنٹنڈنٹ کے مطابق انسٹی ٹیوٹ میں ایک بچہ موجود تھا جس کے والدین کورونا سے فوت ہوگئے۔ بچہ کی رشتہ داروں نے اسے حاصل کرلیا ہے۔ شہر کے ایک کارپوریٹ ہاسپٹل کے رسپشن علاقہ میں ایک لڑکا پایا گیا جس کے والدین ہاسپٹل میں فوت ہوچکے تھے۔ دواخانہ کے حکام نے اس بچہ کو ڈپارٹمنٹ کے حوالے کردیا۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ہیلپ لائن کے قیام سے قبل بعض اضلاع میں بھی یتیم ویسیر بچوں کے بارے میں اطلاعات ملی ہیں۔ عہدیداروں نے بتایا کہ یتیم و یسیر بچوں کے بارے میں اطلاعات عام ہوتے ہی کئی افراد نے بچوں کو گود لینے کا پیشکش کیا ہے۔ اس سلسلہ میں ڈپارٹمنٹ کو 52 سے زائد افراد نے ربط قائم کرتے ہوئے گود لینے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ یتیم و یسیر بچوں کو گود لینے کے سلسلہ میں محکمہ کے پاس گائیڈ لائنس موجود ہیں اور درخواستوں کی وصولی کی صورت میں شرائط کی تکمیل پر فیصلہ کیا جائے گا۔