محکمہ تعلیمات میں سختی، اساتذہ برادری ناراض

   

Ferty9 Clinic

ٹیچرس میں اعلیٰ عہدیداروں کا خوف، روزانہ حاضری روانگی کے لزوم سے ٹیچرس پر منفی اثر

حیدرآباد۔یکم‘ستمبر(سیاست نیوز)شہر حیدرآباد میں محکمہ تعلیم کی جانب سے اختیار کردہ سختی کے سبب اساتذہ برادری میں ناراضگی پائی جانے لگی ہے اور کہا جا رہاہے کہ اعلی عہدیداروں کے خوف کے سبب اساتذہ اپنے موقف کو پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ محکمہ تعلیم کی جانب سے موبائیل ایپلیکیشن کے ذریعہ روزانہ حاضری روانہ کرنے کے احکام کے بعد سے شہرحیدرآباد کے سرکاری اسکولوں میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ کی حالت ابتر ہونے لگی ہے کیونکہ انہیں وقت سے پہلے اسکول پہنچنا پڑ رہا ہے اور کئی اسکولوں میں اساتذہ کے 5منٹ تاخیر سے پہنچنے کے سبب انہیں محکمہ جاتی کاروائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ضلع ایجوکیشنل آفیسر کے دفتر میں موجود عملہ اپنے اعلی عہدیداروں کو ان اسکولوں کی جانب سے رخ کرنے کے لئے مجبور کر رہا ہے جن اسکولوں میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ سے ان کی کسی وجہ سے نا اتفاقی ہے۔ ضلعی دفاتر میں خدمات انجام دینے والے عملہ کی جانب سے کی جانے والی ہراسانی سے سب واقف ہیں اور محکمہ تعلیم میں کچھ زیادہ ہی اس بات کی شکایات موصول ہوتی ہیں لیکن گذشتہ ایک ہفتہ کے دوران یہ عملہ ان اساتذہ کو نشانہ بنانے کی کوشش میں مصروف ہے جن سے ان کی نااتفاقی ہے اور اعلی عہدیدار سرکاری احکام کے سبب روزانہ کسی نہ کسی اسکول کا دورہ کرتے ہوئے اساتذہ کی حاضری کی تفصیلات اور ان کے آمد کے اوقات کار ریکارڈ کر رہے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے جاری کردہ احکام پر شہر حیدرآباد اور ضلع رنگاریڈی میں سختی سے عمل کیا جا رہاہے اور ضلع ایجوکیشن آفیسر شہر میں اچانک دورے کرتے ہوئے اساتذہ کی موجودگی کا جائزہ لے رہی ہیں۔عہدیدارو ںکے مطابق تمام اضلاع کے عہدیداروں کو یہ ہدایات جاری کی گئی ہیں لیکن حیدرآباد اور رنگاریڈی میں ان ہدایات پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے۔اساتذہ کا کہناہے کہ وہ اسکول وقت پر آنے کے باوجود حالات کا شکار ہونے لگے ہیں اور ان کے خلاف کاروائی کے نام پر ان کی ملازمت سے کھلواڑ کیا جانے لگا ہے۔سرکاری اسکولو ںمیں خدمات انجام دینے والے اساتذہ کا کہنا ہے ک محکمہ تعلیم کی جانب سے کئے جانے والے اقدام غیر درست نہیں ہیں بلکہ طلبہ کے مستقبل کو تابناک بنانے کیلئے یہ اقدام کئے جا رہے ہیں لیکن ان اقدامات اور کاروائیوں کا فائدہ وہ لوگ اٹھانے لگے ہیں جو اعلی عہدیداروں کی آڑ میں دیگر دفاتر اور اسکولوں میں خدمات انجام دینے والے عملہ کو خائف رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔حکومت تلنگانہ کی جانب سے کئے جانے والے فیصلہ کے متعلق عہدیداروں کا کہنا ہے کہ فیصلہ پر عمل آوری کو یقینی بنانے کیلئے کئے جانے والے اقدامات قابل قدر ہیں اور ہر گوشہ سے اس کی ستائش کی جا رہی ہے لیکن اس فیصلہ سے جو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے انہیں دور کرنے کیلئے اقدامات بھی کئے جانے چاہئے ۔اساتذہ برادری کا کہناہے کہ جو اساتذہ مکمل طور پر خذمات انجام ہی نہیں دیتے ان کے خلاف کاروائی بے حد ضروری ہے کیونکہ سرکاری اسکولوں میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ میں ایسے اساتذہ کی بھی بڑی تعداد ہے جو اپنی دیگر مصروفیات کو دفتری مصروفیات کا نام دیتے ہوئے اسکول میں حاضری کی حد تک ہی موجود رہتے ہیں۔ضلعی ایجوکیشنل آفیسر کے دفتر کے عہدیدارو ںکا کہناہے کہ شہر حیدرآباد میں محکمہ تعلیم کی جانب سے ایسے اساتذہ کا مکمل ریکارڈ جمع کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے جو حاضری کی حد تک اسکولوں میں موجود رہتے ہیں اور مابقی وقت دیگر سرگرمیو ںمیں گذارتے ہیں انہیں اپنے منڈ کے عہدیداروں کی سرپرستی حاصل ہوتی ہے۔