محکمہ جات بلدی نظم و نسق اور صنعت میں وصول ہونے والی درخواستوں کی بروقت یکسوئی

   

تاخیر پر عہدیداروں پر جرمانہ کا خوف ، ٹی ایس بی پاس و ٹی ایس آئی پاس کے ذریعہ درخواستوں کی یکسوئی میں بھرتی
حیدرآباد۔26 اپریل (سیاست نیوز ) درخواستوں کی عدم یکسوئی یا بروقت یکسوئی نہ کئے جانے کی صورت میں عائد کئے جانے والے جرمانوں کے خوف کا شکار 98 فیصد عہدیدارو ںنے محکمہ بلدی نظم و نسق اور محکمہ صنعت کو موصول ہونے والی درخواستو ںکی یکسوئی کو معینہ وقت میں مکمل کرتے ہوئے ریکارڈ قائم کیا ہے۔حکومت تلنگانہ کی جانب سے محکمہ بلدی نظم و نسق میں عمارتوں کے اجازت ناموں کے لئے داخل کی جانے والی TS-bpass کے ذریعہ درخواستوں کی یکسوئی کے معاملوں میں سرعت پیدا ہوچکی ہے اوراسی طرح سے حکومت تلنگانہ کے محکمہ صنعت وکامرس میں نئی صنعتوں کے قیام و سرمایہ کاری کے معاملات میں وصول طلب اجازت کے لئے TS-ipass کے ذریعہ داخل کی جانے والی درخواستوں کی یکسوئی کے معاملہ میں بھی عہدیدارو ںکی جانب سے پھرتی دکھائی جانے لگی ہے۔محکمہ بلدی نظم ونسق میں ٹی ایس بائی پاس کے ذریعہ داخل کی جانے والی درخواستوں کی معینہ وقت میں عدم یکسوئی پر اب تک جملہ 90عہدیداروں پر جرمانہ عائد کیا گیا ہے جبکہ ٹی ایس آئی پاس میں تاحال اب تک محض 7عہدیداروں پر جرمانے عائد کئے گئے ہیں۔حکومت تلنگانہ نے عمارتوں کی اجازت اور نئی صنعتوں کے آغاز کے سلسلہ میں داخل کی جانے والی درخواستوں کی عاجلانہ یکسوئی کے سلسلہ میں شروع کئے گئے ان دونوں پلیٹ فارمس پر موصول ہونے والی درخواستوں کی بروقت یکسوئی کے متعلق جاری کردہ تفصیلات میں اس بات کادعویٰ کیا ہے کہ ٹی ایس بائی پاس میں اب تک 90 عہدیداروں پر عائد کئے گئے جرمانوں سے 2.5لاکھ روپئے وصول کئے گئے جبکہ ٹی ایس آئی پاس میں بھی درخواستوں کی عدم یکسوئی کی صورت میں جس عہدیدار سے تاخیر ہورہی ہے اس پر یومیہ 5ہزار روپئے کا جرمانہ عائد کیا جاتا ہے اور اب تک 7عہدیداروں پر ہی یہ جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔محکمہ صنعت و کامرس کے علاوہ محکمہ بلدی نظم و نسق کے عہدیدارو ںکا کہنا ہے کہ ریاست میں ان منصوبوں پر عمل آوری کے بعد سے عہدیدارفائیلوں کو زیر التواء رکھنے کے بجائے ان کی جلد یکسوئی اور اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں عجلت کا مظاہرہ کرنے لگے ہیں اور دونوں ہی محکمہ جات کے 98 فیصد عہدیداروں کی جانب سے جرمانوں کے خوف سے کارکردگی میں بہتری لائی گئی ہے ۔ ریاستی حکومت کے دیگر محکمہ جات بالخصوص اسکالرشپس کی اجرائی کے علاوہ دیگر عوامی سہولیات و اسکیمات کے متعلق چلائے جانے والے پورٹل اور پلیٹ فارمس پر داخل کی گئی درخواستوں کی عدم یکسوئی کی صورت میں بھی اگر عہدیداروں پر جرمانوں کے عائد کرنے کے لئے قانون سازی کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں سرکاری اسکیمات کے استفادہ کنندگان کو بھی فائدہ حاصل ہوگا۔م