جاریہ سال 10 ہزار کروڑ آمدنی کا اندازہ تھا ۔ آئندہ تین ماہ میں 3500 کروڑ کی آمدنی کا امکان
حیدرآباد :۔ ریاست میں غیر زرعی اراضیات و جائیدادوں کے رجسٹریشن میں تیزی پیدا ہوگئی ہے ۔ تین ماہ کے زیر التواء کے بعد 21 دسمبر سے ریاست کے 141 سب رجسٹرار آفسوں میں رجسٹریشن کا عمل شروع ہوگیا صرف کام کے 9 دن یعنی 21 تا 31 دسمبر تک حکومت کو 383 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی ہے ۔ بالخصوص ایل آر ایس اسکیم کے قوانین میں ترمیمات کے بعد دو دن میں ایک ساتھ 20 ہزار سے زائد دستاویزات کی لین دین ہوئی ہے ۔ جس سے حکومت کو 170 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی ہے ۔ محکمہ رجسٹریشن کے اعداد و شمار سے اس کا پتہ چلا ہے ۔ اس سے قبل ماہ مارچ میں رجسٹریشن سے سب سے زیادہ 400 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی تھی ۔ پہلے کورونا بحران پھر لاک ڈاؤن اس کے بعد تین ماہ تک رجسٹریشن کے عمل کو روک دینے کے بعد دوبارہ رجسٹریشن کے عمل کا آغاز کرنے پر طویل عرصہ سے زیر التواء رجسٹریشن کی تکمیل کے لیے عوام بڑے پیمانے پر سب رجسٹرار آفسوں پر امنڈپڑیں جس سے حالیہ دنوں میں عوام کی کافی بھیڑ سب رجسٹرار آفسوں پر دیکھی جارہی ہے ۔ محکمہ رجسٹریشن کے عہدیداروں نے امید ظاہر کی ہے کہ ایل آر ایس میں ترمیمات کے بعد آئندہ تین ماہ تک رجسٹریشن میں زبردست اضافہ ہونے کا امکان ہے ۔ حکومت نے جاریہ سال محکمہ رجسٹریشن سے 10 ہزار کروڑ روپئے کی آمدنی ہونے کا اندازہ لگایا تھا لیکن کورونا کی وباء نے حکومت کے اندیشوں کو ناکام بنادیا ۔ اس کے علاوہ تین ماہ رجسٹریشن کا عمل روک دینے سے 31 دسمبر تک حکومت کو صرف 1864 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی ہے ۔ آئندہ تین ماہ میں ہر ماہ 1000 کروڑ سے زیادہ آمدنی ہونے کی توقع کی جارہی ہے ۔ محکمہ رجسٹریشن کے عہدیدار توقع کررہے ہیں کہ مالیاتی سال کے اختتام تک رجسٹریشن سے حکومت کو 5500 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوگی ۔۔