محکمہ رجسٹریشن کو ماہانہ 1000 کروڑ کی آمدنی

   

جاریہ سال آل ٹائم ریکارڈ آمدنی متوقع ۔ رئیل اسٹیٹ کا کاروبار عروج پر
حیدرآباد : /25 نومبر (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں رجسٹریشن کی آمدنی میں اضافہ ہورہا ہے ۔ رئیل اسٹیٹ کا کاروبار عروج پر پہونچ چکا ہے ۔ ماہانہ 1000 کروڑ روپئے کی آمدنی ہورہی ہے ۔ کورونا بحران کے باعث ملک کے تمام شعبے متاثر ہوئے ہیں مگر شہر حیدرآباد میں رئیل اسٹیٹ کا شعبہ عارضی متاثر ہونے کے بعد دوبارہ عروج پر پہونچ گیا ہے ۔ ملک کے اہم شہروں دہلی ، چینائی ، کولکتہ ، پونے ، احمد آباد سے زیادہ حیدرآباد میں فی رقبہ اراضی کی قیمت زیادہ ہے جس کی وجہ سے رجسٹریشن کی آمدنی میں بھی زبردست اضافہ ہوگیا ہے ۔ جہاں تک رجسٹریشن کی آمدنی ہے گزشتہ مالیاتی سال کے ریکارڈ کو جاریہ مالیاتی سال کے 9 ماہ میں عبور کرلیا گیا ہے ۔ مزید 15 دن میں تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد آل ٹائم ریکارڈ قائم ہونے والا ہے ۔سال 2020-21 ء میں رجسٹریشن سے 5260 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی ۔ رواں سال ابھی تک 6600 کروڑ کی آمدنی ہوئی ہے ۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ مزید 15 دن میں آمدنی 7000 کروڑ کو عبور کرجائے گی ۔ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد سال 2919-20 ء میں محکمہ رجسٹریشن کو سب سے زیادہ 7061 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی تھی ۔ اب یہ ریکارڈ بھی ٹوٹنے کے قریب ہے ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ گزشتہ 5 ماہ سے محکمہ اسٹامپ اینڈ رجسٹریشن کو ماہانہ 1000 کروڑ سے زیادہ آمدنی حاصل ہورہی ہے ۔ صرف جولائی میں 1200 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی ہے ۔ متحدہ آندھراپردیش میں صرف حیدرآباد تک رئیل اسٹیٹ کاروبار محدود تھا ۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کے قیام اوراضلاع کی تنظیم جدید کے بعد سرمایہ کاری کا جال اضلاع تک پھیل جانے کے بعد اضلاع میں بھی رئیل اسٹیٹ کا کاروبار عروج پر پہونچ چکا ہے ۔ ن