محکمہ ریونیو میں رشوت کا بازار گرم، بھاری رقم کی وصولی کی شکایت

   

Ferty9 Clinic

شاد نگر کے کندورگ منڈل میں وی آر او گرفتار،اے سی بی کی کارروائی، مزید تحقیقات جاری
شاد نگر۔/10 جولائی، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) شاد نگر حلقہ کے کندورگ منڈل کے ایک وی آر او کو 4 لاکھ روپئے رشوت قبول کرتے ہوئے اے سی بی عہدیداروں نے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ تفصیلات کے مطابق اننتیا نامی وی آر او فی الحال کندورگ منڈل میں خدمت انجام دے رہا ہے۔ اننتیا وی آر او کیشم پیٹ منڈل کے موضع دتیہ پلی میں خدمت انجام دیا تھا۔ موضع دتیہ پلی میں بھاسکر نامی شخص کی 12 ایکڑ اراضی ہے جس کی پٹہ پاس بک بھی جاری ہوچکی ہے۔ لیکن گزشتہ ماہ آن لائن کے ریونیو ریکارڈ سے 12 ایکڑ اراضی میں سے 9 ایکڑ اراضی کو آن لائن سے حذف کردیا گیا۔ اس بات کی اطلاع اراضی مالک کو ملنے پر اراضی مالک بھاسکر نے وی آر او اننتیا سے ربط پیدا کرنے پر وی آر او اننتیا نے مذکورہ 9ایکر راضی کو آن لائین کرنے کیلئے 8 لاکھ روپیوں کا مطالبہ کیا۔ پٹہ دار بھاسکر پریشان ہوکر ایک ہفتہ قبل اے سی بی عہدیداروں کو مذکورہ 8 لاکھ کے مطالبہ کے متعلق تفصیل کے ساتھ واقف کرواتے ہوئے ایک تحریری شکایت کی۔ بھاسکر نے اے سی بی کی مدد سے آج وی آر او اننتیا کو 4 لاکھ روپئے ادا کئے۔ چنانچہ اے سی بی ڈی ایس پی ستیہ نارائنہ اور ان کی ٹیم نے اسے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ وی آر او اننتیا کو رنگے ہاتھوں پکڑنے کے بعد اے سی بی ڈی ایس پی ستیہ نارائنہ نے میڈیا سے مخاطب کرتے ہوئے بتایا کہ رشوت طلب کرنے میں وی آر او اننتیا کے ساتھ تحصیلدار کیشم پیٹ شریمتی لاوانیا بھی شامل ہونے کی شکایت ہے۔ اس ضمن میں اے سی بی مذکورہ واقعہ میں تفصیلی تحقیقات کرے گی اور ملوث عہدیداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے کا تیقن دیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ رشوت قبول کرنے والے عہدیداروں کو چنچل گوڑہ جیل بھیجا جائے گا۔ اس دوران ریونیو حکام جدید پٹہ پاس بک اور آن لائن کرنے کے سرکاری کام کیلئے کسانوںاور اراضی مالکین سے بھاری رقم وصول کرنے کی شکایتیں موصول ہوئی ہیں۔ انہوں نے کسانوں اور عوام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کوئی بھی عہدیدار رشوت کا مطالبہ کرنے پر اے سی بی عہدیداروں سے رجوع ہوں۔ شکایت کو راز میں رکھتے ہوئے قانونی کارروائی کی جائے گی۔ رشوت طلب کردہ 4 لاکھ روپئے اور وی آر او اننتیا کو اے سی بی نے حراست میں لے لیا ہے۔ اس ضمن میں مزید تحقیقات جاری ہیں ۔ تحقیقات میں اگر کوئی سرکاری عہدیدار ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔