سب رجسٹرار دفاتر میں رشوت ستانی اور بدعنوانیوں کو روکنے ٹھوس اقدامات ضروری
حیدرآباد۔27اگسٹ(سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ ہی نہیں بلکہ ملک کی بیشتر ہر ریاست میںعام طور پر محکمہ پولیس ‘ آر ٹی اے اور بلدیات میں ہونے والی بدعنوانیاں و رشوت کے چلن کے سلسلہ میں خبریں شائع ہوتی ہیں اور بڑے پیمانے پر دھاوے کرتے ہوئے عہدیداروں کی گرفتاری کے دعوے بھی کئے جاتے ہیں لیکن ریاست میں ایک محکمہ ایسا بھی ہے جسے کہا ہی جاتا ہے محکمہ مال اور اس محکمہ میں اراضیات کی دھاندلیوں کی خبریں تو شہ سرخیوں میں رہتی اور غائب ہوتی رہتی ہیں لیکن اس محکمہ میں ضلع اور منڈل سطح کے عہدیداروں کے درمیان جاری رشوت و بدعنوانیوں کے سلسلہ میں عام طور پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے کیونکہ یہ سسٹم بھی اسی طرح ہے جس میں یہ کہا جا تا ہے کہ ’’ بے ایمانی کا کام پوری ایمانداری کے ساتھ ‘‘ جی ہاں سب رجسٹرار کے دفاتر ہوں یا اس محکمہ کے دیگر دفاتر ان میں عوام کی رسائی درمیانی آدمی کے بغیر ممکن ہی نہیں ہوتی اوراگر کسی طرح ہو بھی جاتی ہے تو اس کا کام ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے محکمہ مال کے عہدیداروں کی بدعنوانیوں کو دیکھتے ہوئے قوانین میں ترمیم کے اقدامات کئے گئے اوربدعنوانیوں کے خاتمہ کی ممکنہ کوشش کی گئی لیکن اب بھی ا س محکمہ کی صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ محکمہ مال کے عہدیدارو ںکی آمدنی کے متعلق ہر سطح پر عہدیدار واقف ہیں لیکن ا س کے باوجود کوئی کاروائی نہیں کی جاتی جس کی بنیادی وجہ ان وصولیوں کی کڑی نیچے سے اوپر تک ملتی ہے اور اگر اس کڑی کے درمیان میں کوئی دیانتدار عہدیدار رکاوٹ بھی بننے کی کوشش کرتا ہے تو اسے ہٹانے کیلئے اقدامات کو ممکن بنا دیا جاتا ہے۔ محکمہ مال کے ایک عہدیدار نے بتایاکہ سب رجسٹرار کے دفتر میں فی فائل کے اعتبار سے اوپر کی آمدنی مقرر ہے اور اس بات سے خود وزارت اور اعلی عہدیداروں کے علاوہ محکمہ انسداد رشوت ستانی کے عہدیدار واقف ہیں اور اس آمدنی کے ذرائع سے بھی سب واقف ہیں لیکن کوئی کچھ کر نہیں سکتا جس کی بنیادی وجہ نظام کی خرابی ہے ۔ محکمہ مال کے نظام میں موجود رشوت کے اس چلن کو روکنے کیلئے اب تک کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے گئے بلکہ سب رجسٹرار کے دفاتر درمیانی افراد کے بھرے پڑے ہوتے ہیں اور ان افراد کے بغیر ان دفاتر میں کوئی کام نہیں ہوتا لیکن اس کے باوجود ان دفاتر کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور عوام شکایت سے اس لئے گریز کرتے ہیں کیونکہ انہیں اپنے کام کے روک دیئے جانے یا اس میں خامی نکالے جانے کا خطرہ ہوتا ہے ۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے شفاف حکمرانی کے دعوؤں کے دوران محکمہ مال اور اسٹامپس رجسٹریشن میں جاری دھاندلیوں اور بدعنوانیوں پر محکمہ انسداد رشوت ستانی کی خاموشی معنی خیز ہے جبکہ ان دفاتر کے باہر دلال باضابطہ گھومتے نظر آتے ہیں ۔M