محکمہ مال کی کھلی اراضیات اور پارکوں پر ناجائزقبضے

   

تلنگانہ ہائیکورٹ کی شدید برہمی، قبضے فوری برخاست کروانے حکومت کو ہدایت

حیدرآباد۔27فروری(سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے محکمہ مال کی کھلی اراضیات‘ پارکوں کے علاوہ سڑکوں پر کئے جانے والے قبضہ جات پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو مقدمہ کی آئندہ سماعت تک ناجائز قبضہ جات کی برخواستگی کے سلسلہ میں منظم کے ساتھ عدالت سے رجوع ہونے کی ہدایت دی۔ہائی کورٹ کی ڈیویژن بنچ پر جہاں تالابوں‘ پارکوں کے علاوہ سرکاری اراضیات پر کئے جانے والے قبضہ جات کے سلسلہ میں مقدمہ کی سماعت جاری تھی اس سماعت کے دوران محکمہ بلدی نظم و نسق کے علاوہ دیگر محکمہ جات کے اعلی عہدیدار موجود تھے۔چیف جسٹس رگھویندر سنگھ چوہان اور جسٹس اے ابھیشیک ریڈی پر مشتمل بنچ نے عہدیداروں کے ذریعہ حکومت سے استفسار کیا کہ قوانین کا نفاذ آپ نہیں کریں گے تو اور کون ان قوانین کو نافذ کرے گا۔ انہو ںنے واضح طور پر کہا کہ حکومت اور عہدیداروں کی جانب سے ان قبضہ جات پر خاموشی اختیار کرتے ہوئے اپنے رول کو نظر انداز نہیں کرسکتی ۔بنچ نے حکومت کو ہدایت دی کہ فوری دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد میں پارکوں‘ تالابوں ‘ ندیوں کے پشتوں کے علاوہ کھلی اراضیات پر کئے جانے والے قبضہ جات کا سروے کرتے ہوئے مکمل رپورٹ اائندہ سماعت کے دوران پیش کرے اور عدالت کو اس بات سے بھی واقف کروائے کہ ریاستی حکومت اور متعلقہ محکمہ جات کی جانب سے ان قبضہ جات کو برخواست کروانے کے لئے کیا اقدامات کئے جا رہے ہیں۔عدالت نے کہا کہ کوئی بھی مذہبی ڈھانچہ قانون سے بڑا نہیں ہے اسی لئے مذہبی ،ھانچوں کی آڑ میں کئے جانے والے قبضہ جات کو بھی قطعی برداشت نہیں کیا جانا چاہئے۔چیف جسٹس نے وزارت بلدی نظم و نسق ‘ وزارت پنچایت راج کے علاوہ ضلع کلکٹر رنگاریڈی کو ہدایت دی کہ وہ آئندہ سماعت سے قبل مکمل رپورٹ کی تیاری کے بعدحکمت عملی کے سلسلہ میں بھی رپورٹ تیار کرتے ہوئے عدالت میں پیش کریں۔ چیف جسٹس آر ایس چوہان اور جسٹس اے ابھیشیک ریڈی نے سماعت کے دوران حکومت کی جانب سے جاری کئے گئے جی او نمبر262 بتاریخ 31مارچ 2010کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ احکام جاری کئے گئے ہیں تو ان پر عمل آوری کی جائے۔