ریاست اور ریاستی عوام کی توہین ۔ الہ آباد ہائیکورٹ کی جانب سے یوگی حکومت کی سرزنش
الہ آباد 8 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) الہ آباد ہائیکورٹ نے مخالف شہریت ترمیمی قانون احتجاجیوں کے پوسٹرس اور ہورڈنگس لگانے پر آج اترپردیش حکومت کی سرزنش کی ہے اور اس اقدام کو ریاست اور اس کے عوام کی توہین قرار دیا ہے ۔ عدالت نے اس مسئلہ پر اپنا فیصلہ پیر کو 2 بجے دن تک کیلئے محفوظ رکھا ہے ۔ چیف جسٹس گوند ماتھر اور جسٹس رمیش سنہا پر مشتمل بنچ نے کہا کہ یوگی حکومت کا یہ اقدام انتہائی غیر منصفانہ ہے اور یہ متعلقہ افراد کی شخصی آزاد کو سلب کرنے جیسا ہے ۔ عدالت نے لکھنو میں مخالف سی اے اے احتجاج کے دوران تشدد کے واقعات میں ماخوذ کئے گئے افراد کی تصاویر اور تفصیل پر مشتمل ہورڈنگس لگانے پر ریاستی حکام کی سرزنش کی ہے ۔ تاہم ریاستی حکومت کے وکیل کی اس استدعا پر کہ ایڈوکیٹ جنرل اس مسئلہ پر عدالت میں پیش ہونگے اور وہ لکھنو سے آ رہے ہیں چونکہ موسم خراب ہے اس لئے وہ عدالت نہیں پہونچ سکے اسی لئے بنچ نے سماعت کو شام تین بجے تک ملتوی کردیا تھا ۔ تاہم عدالت نے کہا کہ ریاستی حکومت کو کچھ ہوش کے ناخن لینے ہونگے اور تین بجے سے قبل کوئی اقدام کرنا ہوگا ۔ پولیس نے سارے لکھنو میں جمعرات کو کئی مقامات پر ہورڈنگس لگائے تھے جن میں ان افراد کی شناخت کی گئی تھی جن کو شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج میں ہوئے تشدد میں ماخوذ کیا گیا تھا ۔ ہورڈنگس پر ملزمین کی تصاویر ‘ نام ان کے رہائشی پتے وغیرہ درج تھے جن کی وجہ سے ان میں اپنی سلامتی کے تعلق سے اندیشے پیدا ہوگئے تھے ۔ ریاستی انتظامیہ نے ملزمین سے کہا تھا کہ وہ عوامی و خانگی املاک کو ہوئے نقصان کی ایک مقررہ وقت میں پابجائی کریں یا پھر ان کی جائیدادوں کو ضلع انتظامیہ کی جانب سے ضبط کرلیا جائیگا۔