بی جے پی پر مذہبی سیاست کا الزام، مرکزی بجٹ عوام دشمن
حیدرآباد۔ 21 فروری (سیاست نیوز) سی پی آئی دہلی اسٹیٹ کونسل کا توسیعی اجلاس آج نئی دہلی میں کامریڈ ابھیشا چوہان کی صدارت میں منعقد ہوا۔ جنہوں نے بوانا اسمبلی حلقے سے مقابلہ کیا تھا اور انہیں بائیں بازو امیدواروں میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل ہوئے۔ سی پی آئی کے قومی سکریٹری اور انچارج دہلی ڈاکٹر کے نارائنا نے قومی کونسل اجلاس کے فیصلوں سے واقف کرایا۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی حکومت نے فرقہ وارانہ نظریہ کے تحت شہریت ترمیمی قانون کو منظوری دی ہے۔ این آر سی اور این پی آر اسی ایجنڈے کا حصہ ہے۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا ان تینوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاہ قوانین کے خلاف جے این یو، جامعہ کے طلبہ اور شاہین باغ کے احتجاجیوں کے جذبے کو سی پی آئی سلام کرتی ہے اور ان کے احتجاج کی تائید کرتی ہے۔ نارائنا نے کہا کہ مخالف شہریت قانون احتجاج قومی سطح پر پھیل چکا ہے۔ تمام مذاہب اور مختلف شعبہ ہائے حیات سے تعلق رکھنے والے افراد شہریت قانون این پی آر اور این آر سی کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ ڈاکٹر نارائنا نے سپریم کورٹ کی جانب سے احتجاج کو جمہوری حق تسلیم کرنے کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کو چاہئے کہ غیر دستوری قوانین کا جائزہ لے۔ مرکزی بجٹ کو عوام دشمن قراردیتے ہوئے نارائنا نے کہا کہ مہاتما گاندھی قومی ضمانت روزگار اسکیم اور سماجی بھلائی سے متعلق اسکیمات کے بجٹ میں کمی کردی گئی ہے۔ تعلیم، صحت اور دیگر شعبہ جات کو خانگیانے کی تیاری کرلی گئی۔ عوامی شعبے کے ادارے جیسے ایر انڈیا، ایل آئی سی، بی پی سی ایل اور ریلویز کو ایرپورٹس کے ساتھ خانگی شعبے کے حوالے کرنے کی سمت پیش رفت کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں شرح ترقی کی رفتار بری طرح بھٹ چکی ہے۔ بیروزگاری کی شرح میں اضافہ ہوگیا۔ اس کے باوجود اہم مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے مودی اور امیت شاہ نے فرقہ وارانہ ایجنڈا اختیار کیا ہے۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ تنظیم کے استحکام پر توجہ دیں اور پارٹی کے تمام برانچس کو متحرک کیا جائے۔ دہلی انتخابات میں حصہ لینے والے سی پی آئی کے تینوں امیدواروں، دلیپ کمار، ابھیشا چوہان اور سنجیو کمار رانا نے اپنے تجربات بیان کئے۔ سکریٹری سی پی آئی دہلی پروفیسر دنیش ورشنے نے دہلی میں پارٹی سرگرمیوں پر رپورٹ پیش کی۔ انہوں نے بتایا کہ شہریت قانون این آر سی اور این پی آر کے خلاف پارٹی احتجاج میں سرگرم ہے۔ اجلاس میں شہریت قانون این آر سی اور این پی آر کے خلاف قرارداد منظور کرتے ہوئے شاہین باغ، جامعہ ملیہ اور جے این یو طلبہ کے احتجاج کی تائید کی گئی۔ سپریم کورٹ سے درخواست کی گئی کہ وہ غیر دستوری قوانین کے خلاف فیصلہ سنائے۔ یہ تینوں قوانین دستور کے بنیادی روح کے خلاف ہیں۔ اجلاس نے امریکی صدر ٹرمپ کے مجوزہ دورۂ ہندوستان کی مخالفت کی ہے۔ پارٹی نے کہا کہ امریکی سامراجیت ہمیشہ ہندوستانی عوام کے خلاف رہی ہے۔ حالیہ عرصہ میں ہندوستانیوں کے لیے H1 ویزا میں کمی کردی گئی۔ امریکہ نے دنیا کو اسلحہ فروخت کرنے کی منڈی میں تبدیل کردیا ہے۔ پارٹی نے جمہوریت پسند اور ترقی پسند طاقتوں سے ٹرمپ کے دورے کے خلاف احتجاج کی اپیل کی ۔