مخالف مسلم پوسٹ پر کرناٹک میں بی جے پی لیڈر سمیت دو افراد گرفتار

   

ٹیکس کی رقم مسلمانوں کو بطور سبسیڈی ادا کرنے کا الزام، مسلمانوں کا احتجاج
حیدرآباد۔/28 جولائی ، ( سیاست نیوز) کرناٹک کے کولار ضلع میں مخالف مسلم مواد فیس بک پر پوسٹ کرنے کے الزام میں دو افراد کو گرفتار کرلیا گیا جن میں ایک مقامی بی جے پی لیڈر شامل ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جمعہ کے دن فیس بک پر ایک پوسٹ کیا گیا جس میں ٹیکس کی ادائیگی کے معاملہ میں مسلمانوں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ مخالف مسلم پوسٹ میں لکھا گیا ہے کہ’’ 31 جولائی قریب آرہی ہے براہ کرم اپنے ٹیکسیس مقررہ مدت میں ادا کریں۔ ویسے بھی آپ کے تمام ٹیکسیس بعض افراد کی سبسیڈی ہیں ‘‘ پولیس نے مقامی بی جے پی لیڈر نوین جین اور چیتن بنٹیا کو حراست میں لے لیا۔ چیتن بنٹیا مقامی تاجر ہے اور دونوں نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر یہ متنازعہ پوسٹ کیا جس کے سبب مسلمانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ جمعہ کی رات مسلمانوں کی بڑی تعداد نے رابرٹ سونپیٹ پولیس اسٹیشن کے روبرو احتجاج منظم کیا اور دونوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔ احتجاجیوں نے پوسٹ کرنے والے افراد سے معذرت خواہی کی مانگ کی۔ ڈپٹی کمشنر پولیس پانڈو رنگا نے احتجاجی مقام پر پہنچ کر مسلم قائدین سے بات چیت کی۔ انہوں نے مسلمانوں کے خلاف پوسٹ کرنے والوں کی گرفتاری کا تیقن دیا۔ واضح رہے کہ لوک سبھا انتخابات کی مہم کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کانگریس پر ملک کے اثاثہ جات پر مسلمانوں کی ترجیح سے متعلق بیان کا حوالہ دیتے ہوئے تنقید کی تھی۔ اسی پس منظر میں کرناٹک میں یہ متنازعہ پوسٹ کیا گیا جس میں ایک مسلم خاندان کو پیش کرتے ہوئے ٹیکس کی رقم ان کیلئے سبسیڈی کے طور پر پیش کی گئی۔1