چیف جسٹس تلنگانہ ہائی کورٹ کے ریمارکس، سماج کو ذات پات کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی شکایت
حیدرآباد ۔15 ۔ جون (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت کی جانب سے ویلما اور کما طبقات کی تنظیموں کو اراضی کے الاٹمنٹ کے مسئلہ پر تلنگانہ ہائی کورٹ میں آج سماعت ہوئی ۔ کاکتیہ یونیورسٹی کے پروفیسر ونائک ریڈی نے مفاد عامہ کی درخواست دائر کی جس کی سماعت چیف جسٹس اجل بھویاں کی زیر قیادت بنچ پر ہوئی ۔ حکومت نے 2021 ء میں خانم میٹ کے علاقہ میں کما اور ویلما طبقات کی تنظیموں کو 5 ایکر اراضی الاٹ کی ہے۔ درخواست گزار نے الاٹمنٹ کو چیلنج کیا ۔ چیف جسٹس ہائی کورٹ نے مختلف طبقات کو اراضی کے الاٹمنٹ پر حیرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف طبقات کی بنیاد پر اراضی کا الاٹمنٹ دستور کی دفعہ 14 کی خلاف ورزی ہے ۔ چیف جسٹس نے ریمارک کیا کہ حکومت کے اس اقدام سے سماج میں ذات پات کی بنیاد پر تقسیم کی راہ ہموار ہوگی۔ 21 ویں صدی اور ہائی ٹیک ریاست میں میں یہ پالیسی باعث حیرت ہے۔ عدالت نے ذات پات کی بنیاد پر اراضی کے الاٹمنٹ کی مخالفت کی ۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایس سی ، ایس ٹی طبقات کو اراضی الاٹ کرنے کی دستوری گنجائش موجود ہے۔ حکومت کا موجودہ طریقہ کار سماج کو تقسیم کرسکتا ہے۔ ہائی کورٹ نے شاردا پیٹھم کے جیئر ویدک اکیڈمک کو اراضی کے الاٹمنٹ کا جائزہ لیا۔ سکندرآباد کے ایک شہری نے الاٹمنٹ کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ۔ کروڑہا روپئے مالیتی اراضی کو صرف ایک روپیہ فی ایکر کے حساب سے الاٹ کردیا گیا ۔ ایڈوکیٹ جنرل بی ایس پرساد نے اراضی الاٹمنٹ کے حق میں دلائل پیش کئے۔ عدالت نے جیئر اکیڈیمی کو جو ہندو مذہبی رہنما کی ہے، نوٹس جاری کرتے ہوئے وشاکھا شاردا پیٹھم معاملہ میں 24 جولائی اور جیئر اکیڈیمی الاٹمنٹ پر 18 اگست کو سماعت مقرر کی ہے۔ اسی دوران ریڈی کالج ہاسٹل کے لئے 5 ایکر اراضی کے الاٹمنٹ کے خلاف درخواست سماعت کیلئے قبول کی گئی۔ اس سلسلہ میں نوٹس جاری کرتے ہوئے 23 جون کو آئندہ سماعت مقرر کی گئی۔ر