مختلف کمپنیوں کی کورونا ویکسین لینا خطرناک: سوامی ناتھن

   

جنیوا : عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ کورونا وائرس ویکسین کی مختلف کمپنیوں کی خوراک لینا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔تنظیم کی چیف سائنسدان سومیا سوامی ناتھن نے پیر کو ایک آن لائن بریفنگ میں کہا کہ ہمارے پاس مختلف کمپنیوں کی کوویڈ ویکسین میں ملاوٹ سے متعلق سائنسی اعداد و شمار اور شواہد موجود نہیں ہیں۔ اس کے اثر کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔ڈاکٹر سوامی ناتھن نے کہا کہ کورونا وائرس ویکسین میںملاوٹ کے نتائج کے بارے میں کوئی اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔ اس کے پیش نظر احتیاط کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مختلف ممالک کے لوگ خود ہی فیصلہ کرنا شروع کردیں کہ کب خوراک لینا ہے تو پھر افراتفری کی صورتحال کا خدشہ ہے۔انہوں نے کہا کہ مختلف کمپنیوں کی خوراک لینے کے بارے میں مطالعہ جاری ہے اور نتائج کا انتظار کرنا چاہئے۔

کورونا مریضوں کی صحتیابی میں
ریمیڈیسور مددگار نہیں : ماہرین
جنیوا : عالمی صحت تنظیم کی جانب سے کئے گئے ایک نئے سروے کے مطابق کورونا وائرس سے متاثر دواخانوں میں شریک مریضوں کی صحتیابی میں ریمیڈیسور اور نہ ہی ہائیڈراکسی کلوروکوین مددگار نہیں ہوتے۔ ناروے کی اوسلو یونیورسٹی ہاسپٹل کے محققین کی زیرقیادت کئے گئے سروے میں اِس کا انکشاف کیا گیا۔ سروے میں بتایا گیا کہ ریمیڈیسور اور ہائیڈراکسی کلوروکوین میں اینٹی وائرل اثر کا فقدان ہے۔ ناروے کے 23 ہاسپٹلس کے 181 زیرعلاج مریضوں کا سروے کیا گیا۔