جمعیۃ علماء کی کوششوں کے بعد پریاگراج اسٹیشن سے حراست میں لئے گئے 15 طلبائے مدارس اپنی منزل کی جانب روانہ
پریاگراج:۔ اپنی مذہبی شناخت ٹوپی، کرتا پہنے ہوئے سفر کر کے مدرسہ جا رہے 15طلباء اور ان کے ساتھ موجود ذمہ داران کو پریاگراج اسٹیشن پر اس وقت سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا جب ایک غلط خبر کی بنیاد پر انہیں اسٹیشن پر آر پی ایف جوانوں کے ذریعہ جبراً روک ان سے تفتیش کی گئی، کاغذات مانگے گئے، آدھار کارڈدیکھا گیا، ساتھ میں موجود طلباء کے ذریعہ تمام ثبوت اور والدین کی تصدیق دکھانے کے باوجود الگ الگ چائلڈ ویلفیئر سنٹروں میں بھیج دیا گیا، نماز کا وقت ہونے پر پہلے نماز پڑھنے کی اجازت دی پھر ویڈیوبنا کر ٹارچر کرنے کی انتہائی گھٹیا اور مذموم حرکت کی گئی۔ اس کی اطلاع ملتے ہی جمعیۃ علماء ہند کے ناظم عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی اور ریاستی نائب صدر مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی نے مقامی جمعیۃ کے ذمہ داران کے ذریعہ بروقت ایکشن لیتے ہوئے فوراً وکلاء سے رابطہ کیا اور قانونی چارہ جوئی کرتے ہوئے ان بچوں ان کی منزل تک پہنچانے میں اپنا کردار اداکیا۔جمعیۃ علماء کوشامبی کے صدر مولانا مرشدقاسمی نے واقعہ کے تعلق سے تفصیلی معلومات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ موجودہ وقت میں عید الاضحی کی تعطیلات ختم ہونے کے بعد طلبائے مدارس اپنے گھروں سے مدارس کی جانب لوٹ رہے ہیں۔ اسی ضمن میں ضلع فتح پور کے محمد پور گؤنسی تھانہ گھوس میں واقع مدرسہ جامعہ دار ارقم جس کے مہتمم قاری ابو شحمہ اور ناظم مفتی سرور ندوی ہیں، اس مدرسہ کے 15 طلباء 20 جولائی کو مہانندا ایکسپریس میں سہرسہ ضلع کے مانسی اسٹیشن سے پریاگراج کیلئے بیٹھے تھے، سب کا جنرل ٹکٹ تھا، مدرسہ کے ایک مدرس جن کا نام مولانا عبد الرب سیتاپوری ہے، اپنی نگرانی میں ان بچوں کو ان کے گھروں سے لینے کیلئے گئے تھے۔ ان کے ساتھ موجود بچوں میں سے تین بچوں کا ایک بڑا بھائی بھی تھا۔ دوران سفر کسی نے بچوں کو اغواکرکے مزدوری کرانے کی بات ریلوے پولیس میں کہہ دی۔ محض اس غلط خبر کی بنیاد پر پریاگراج اسٹیشن پر اترتے ہی ان سے بچوں سمیت تفتیش شروع کر دی گئی۔ تمام بچوں کے آدھار اور کاغذات دیکھے گئے، ان کے والدین اور جس مدرسہ میں پڑھنے والے بچے تھے، وہاں کے ذمہ داروں سے بات کرا کر ان سے تصدیق کرائی گئی، جس کے بعد وہ انہیں آدھے گھنٹے میں چھوڑ دینے کی بات کہنے لگے۔ اس کے بعد بھی آر پی ایف کے ذمہ داران نے ان بچوں کے والدین کو موقع پر بلانے کی بات کہی جس پر تیسرے دن ان بچوں کے والدین و سرپرست بھی پہنچ گئے، اس کے باوجود بچوں کی اسمگلنگ اور بچہ مزدوری کی دفعات میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔اس دوران ایک دوسرا واقعہ بھی ہوا کہ جب نماز کا وقت ہوا تو مولانا عبد الرب سیتاپوری نے وہاں موجود آر پی ایف اہلکاروں سے اجازت لے کر اپنی نمازیں بھی ادا کیں، اس دوران کسی شرپسند عناصر نے ان کا ویڈیوبنا کر وائرل کر دیا جس کے بعد معاملے نے دوسرا رخ بھی اختیار کر لیا اور اس میں آرپی ایف کے علاوہ مقامی شدت پسند تنظیموں کے لوگوں نے بھی آکر مولانا سے پوچھ گچھ کا سلسلہ شروع کردیا۔مدرسہ دار ارقم کے ذمہ داران کی جانب سے جیسے ہی معاملہ ان کی جانکاری میں لایا گیا تو انہوں نے فوراً اس کی اطلاع جمعیۃ علماء ہند کے ناظم عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی اور ریاستی نائب مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی کو دی اور ان سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے جمعیۃ علماء کی جانب سے وکلاء کی ٹیم کے ساتھ موقع پر پہنچ کر آر پی ایف کی حراست میں موجود تمام طلباء اور نگراں مولانا عبد الرب سے تمام تفصیلات معلوم کرکے قانونی کارروائی شروع کی۔ آج ایک ہفتہ کے اندر الحمد اللہ 15 طلباء چائلڈ سنٹر سے نکل کر کچھ واپس اپنے گھر تو کچھ مدرسہ میں پہنچ چکے ہیں۔جب اس تعلق سے جمعیۃ علماء کے ریاستی نائب صدر مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے دوران سفر خصوصی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ آرپی ایف اہلکاروں کے اس نارواں سلوک کی وجہ سے بچوں کا تعلیمی نقصان ہوا، علماء اور ذمہ داران کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا، اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، اس طرح کا رویہ ملک اور سماج کے مفاد میں نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پریاگرراج اسٹیشن پر روکے گئے تمام طلباء فتح پور کے ایک مدرسہ میں زیر تعلیم تھے، جمعیۃ علماء کوشامبی کے صدر مولانا مرشد قاسمی کی کوششوں سے 2 طلباء کو چھوڑ کر سبھی واپس مدرسہ پہنچ چکے ہیں۔ نیز لیگل ٹیم کے مشورے سے پریشان کرنے والے آرپی ایف اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی پر فی الحال غور جاری ہے، ہماری کوشش ہے کہ طاقت کے دم پر بے قصوروں کو پریشان کرنے والوں پر سخت قانونی کارروائی ہونی چاہئے۔


