مخصوص عہدیداروں کو نشانہ بنانے پر 71 سابق بیوروکریٹس متفکر

,

   

عہدیدار صرف سرکاری پالیسی فیصلوں پر عمل کرواتے ہیں خود کچھ نہیں کرتے۔وزیر اعظم مودی کے نام مکتوب
نئی دہلی 5 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) وزارت فینانس کے چار عہدیداروں کے خلاف مقدمہ اور مخصوص حکام کو نشانہ بنائے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے 71 سابق بیوروکریٹس نے وزیر اعظم نریندر مودی کو مکتوب تحریر کیا ہے ۔ وزیر اعظم کے نام ایک مکتوب میں بیوروکریٹس نے مطالبہ کیا ہے کہ کسی سیول سرونٹ کے خلاف کارروائی کے آغاز کیئلے مناسب وقت ہونا چاہئے ۔ جیسے ہی یہ وقت گذر جائے ایسی فائیلوں کو دوبارہ کھولا نہیں جانا چاہئے ۔ ان بیوروکریٹس نے کہا کہ اس طرح کی کارروائیوں سے دیانتدار اور محنت کش عہدیداروں کی حوصلہ شکنی ہوگی ۔ مکتوب پر سبکدوش سیول سرونٹس جیسے سابق کابینی سکریٹری کے ایم چندر شیکھر ‘ سابق معتمد خارجہ و قومی سلامتی مشیر شیوشنکر مینن ‘ سابق معتمد خارجہ سجاتا سنگھ اور سابق ڈی جی پی پنجاب جولیو ریبیرو شامل ہیں۔ ان سابق بیوروکریٹس نے کہا کہ سبکدوش اور برسر کار مخصوص عہدیداروں کو ہی ادنی سیاسی مفادات کیلئے نشانہ بنانے کا طریقہ کار باعث تشویش ہے ۔ گذشتہ مہینے بی جے پی حکومت نے سی بی آئی کو منظوری دی تھی کہ سابق نیتی آیوگ سی ای او سندھو شری کولر اور دوسروں کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے جنہوں نے آئی این ایکس میڈیا کو منظوری دی تھی ۔ حکومت نے سابق سکریٹری وزارت چھوٹی و اوسط صنعتیں انوپ کے پجاری ‘ وزارت فینانس کے اس وقت کے ڈائرکٹر پربودھ سکسینہ اور سابق انڈر سکریٹری محکمہ معاشی امور رابندرا پرساد کے خلاف مقدمہ چلانے کی سی بی آئی کو منظوری دی تھی ۔ سابق عہدیداروں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے توثیق ہوگی کہ اپنے سرکاری کام کاج کی انجام دہی کرنے والے سیول سرونٹس کو کسی طرح کا تحفظ حاصل نہیں رہے گا ۔ انہوں نے کہا کہ تمام حکومتیں ‘ سیاسی وابستگی سے ہٹ کر ‘ چاہے وہ مرکزی ہوں یا ریاستی سطح کی ہو ‘ اسطر ح کی کارروائی کی ذمہ دار رہی ہیں۔ مکتوب میں کہا گیا ہے کہ اگر برسر کار عہدیداروں کے خلاف کارروائیاں کی جاتی ہیں تو ان کے حوصلے پست ہونگے حالانکہ انہیں ناکردہ گناہوں کی سزا مل سکتی ہے ۔ یہ عہدیدار صرف حکومت کے پالیسی فیصلوں پر ہی عمل کرواتے ہیں۔ مکتوب میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ ایک الگ ہی صورتحال ہوتی ہے جب سیاسی عناصر کو جن پر الزامات ہوتے ہیں یا مقدمہ چلایا جاتا ہے ہر طرح کی چھوٹ دی جاتی ہے جبکہ جو عہدیدار پورے بھروسہ کے ساتھ قوم کی خدمت کرتے ہیں ان کے خلاف مقدمات درج کئے جاتے ہیں۔