دیوبند:جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا ارشدمدنی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں گزشتہ کچھ برسوں کے دوران فرقہ پرست طاقتوں نے جس طرح نفرت کا ماحول قائم کردیا ہے اور اس سلسلہ میں حکومت کا جو کردار رہا ہے اس کے پیش نظر مسلمان یہ یقین کرنے پر مجبور ہوگیا ہے کہ اس وقت ہر پالیسی اس کے وجود کو تباہ وبرباد کر دینے کے لیے سامنے آرہی ہے۔انہوں نے کہا کہ دینی مدارس فرقہ پرستوں کی آنکھ کے کانٹے ہیں اس لئے ہمیں ان کی نیتوں کو سمجھنا ہوگا، مدارس کے نظام کو درست کرنے کی بات اپنی جگہ لیکن ہمیں ان کے لیے کمربستہ ہونا ہوگا کیونکہ کہ یہ مدارس قوم کی شہہ رگ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ ہمارے دینی اداروں کو دستور میں دیئے گئے حق کی بنیاد پر چلنے دیا جائے لیکن فرقہ پرست انہیں ختم کرنے کی ناپاک سازش میں مبتلا ہیں، مگر ہم ان شاء اللہ انہیں ایسا ہرگز نہیں کرنے دیں گے، مدارس اسلامیہ کا وجود ملک کی مخالفت کے لیے نہیں اس کی تعمیر وترقی کے لیے ہے، مدارس کا ڈیڑھ سوسالہ کردار اس کا گواہ ہے۔