مدراس ہائیکورٹ کی سیاسی قائدین کو بیانرس لگانے کے خلاف سخت ہدایت

   

چینائی ۔ 8اگست ( سیاست ڈاٹ کام ) مدراس ہائیکورٹ نے سیاسی قائدین سے کہا ہے کہ وہ اپنے ورکروں کی جانب سے ڈیجیٹل بیانرز کی تنصیب عمل میں لانے کے خلاف سخت موقف اختیار کریں اور اپنی پارٹی کے کارکنوں کو بلا اجازت ایسا کرنے سے گریز کرنے کی صلاح دیں ۔ جسٹس ایم ستیہ نارائن اور جسٹس بی پوتل لینڈ دھویر پر مشتمل بنچ نے ایک سماجی جہدکار نوانک راما سوامی کی درخواست پر چہارشنبہ کے دن ٹاملناڈو حکومت کی کھنچوائی کی اور خاص طور پر چینائی کارپوریشن کو غیر قانونی طور پر بیانر کی تنصیب کو روکنے میں ناکامی پر آڑے ہاتھوں لیا ۔ بنچ نے کہاکہ عدالت کی جانب سے جاری کردہ احکامات کی خلاف ورزی کیلئے چیف سکریٹری کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا ۔ چینائی شہر میں اے آ:ی اے ڈی ایم کے کیڈر کی جانب سے حال ہی میں نصب کردہ 70سے زائد بیانرس کے خلاف کی گئی کارروائی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بنچ نے بتایا کہ تنصیب کے بعد بیانرز کو نکالنے سے کیا فائدہ ۔ بنچ نے سوال کیا کہ ایک مصروف سڑک پر بلند بیانر لگانے کی اجازت کس طرح دی گئی اور جس وقت بیانرز لگائے جارہے تھے اس وقت پولیس اور بلدیہ کے حکام کیا کررہے تھے ؟ ۔