!مدعی سست گواہ چست

   

ساری دنیا میں ہندوستان کا نام بدنام کرنے والے سابق وزیراعظم نرسمہا راؤ کا تعلق چیف منسٹر کے سی آر کی ٹی آر ایس سے نہیں بلکہ کانگریس سے تھا ۔ مگر افسوس کے کہ بابری مسجد کی شہادت کے مبینہ سازشی نرسمہا راؤ سے والہانہ محبت و عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے مال مفت دل بے رحم کے مصداق وزیراعلیٰ کے سی آر نے دس کروڑ روپئے سرکاری خزانہ سے جاری کر کے نرسمہا راؤ کی 100 سالہ پیدائشی تقاریب کا اہتمام کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ ان کے بقول یہ پروگرام ایک سال تک جاری رہے گا ۔ اس اقدام کا مقصد ایک تیر سے دو نشانے معلوم ہوتے ہیں ۔ پہلا : اس اقدام کے ذریعہ تلنگانہ میں بی جے پی سے مسابقت کرتے ہوئے فرقہ پرست ہندو ووٹ بینک مضبوط کیا جائے ۔ دوسرا : دل کے ارمان پورے کرتے ہوئے آنجہانی گرو کو بھر پور خراج عقیدت پیش کرنا اور ان کے کارناموں پر موافقت کی مہر ثبت کر کے انہیں ایک قومی ہیرو کے طور پر پیش کرنا ہے ۔ یہ بات سچ ہے کہ دل کی بات کبھی نہ کبھی زبان پر آہی جاتی ہے اور بسا اوقات عمل سے بھی دل کے راز کھل جاتے ہیں ۔ واضح رہے کہ کانگریس کو نقصان پہنچانے ، کمزور اور بدنام کرنے میں نرسمہا راؤ نے بڑا خطرناک کھیل کھیلا تھا ۔ اس کا جو نتیجہ نکلنا تھا وہ تو نکلا ! مگر خود ان کا جو انجام ہوا اس سے سب ہی واقف ہیں حتی کہ مسلمانوں کے علاوہ خود کانگریسیوں اور سیکولر ہندوؤں کی اکثریت ان سے آج بھی نفرت کرتی ہے ۔ ان کے آخری زمانہ میں گاندھی بھون میں ان کا استقبال کرنے کیلئے کوئی کانگریسی راضی نہ تھا ۔ کیوں ؟ اس لیے کہ نرسمہا راؤ ملک کے ناکام اور بدنام وزیراعظم تھے ، مگر ہمارے کے سی آر صاحب کو نہ جانے ان کی کون کون سی ادائیں پسند آگئیں کہ وہ بی جے پی اور کانگریس سے بھی دو چار قدم آگے بڑھ کر مسلمانوں کے جذبات کا لحاظ کیے بغیر مدعی سست گواہ چست کا رول ادا کررہے ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کانگریس اور بی جے پی دونوں ہی ٹی آر ایس پر بدترین کرپشن کے سنگین الزامات لگاتے ہوئے کے سی آر کو ایک مسخرہ کردار قرار دے رہے ہیں ۔۔