بھوپال :مدھیہ پردیش بلدیاتی انتخابات میں مجلس اتحاد المسلمین اور عام آدمی پارٹی نے بڑا پھیر بدل کرکے سیاسی پنڈتوں کی نیند اڑا دی ہے۔ مجلس کی ریاست کی سیاست میں مضبوطی کے ساتھ آمدسے نہ صرف کئی مقامات پر کانگریس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا بلکہ ایم آئی ایم کے 6 کونسلر بھی کامیابی کے ساتھ مدھیہ پردیش کی سیاست میں داخل ہونے میں کامیاب رہے ہیں۔ مجلس میئر کے عہدے پر کامیابی تو حاصل نہیں کرسکی، مگر عام آدمی پارٹی نے سنلگرولی میں بڑا الٹ پھیرکرتے ہوئے میئر عہدے کی سیٹ پر قبضہ کرلیا ہے۔ پہلے مرحلے کے 11 نگر نگم میں سے بی جے پی نے 7، کانگریس نے تین اور عام آدمی پارٹی نے ایک میئر کے عہدے پر قبضہ کیا ہے۔واضح رہے کہ مدھیہ پردیش میں بلدیاتی انتخابات سپریم کورٹ کے احکام کے بعد منعقد کئے گئے۔ دو مرحلے میں ہوئے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لئے 6 جولائی اور دوسرے مرحلے کے لئے 13 جولائی کو ووٹ ڈالے گئے تھے۔ پہلے مرحلے کے ووٹوں کی گنتی 17 جولائی کو کی گئی جبکہ دوسرے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی 20 جولائی کو مکمل کی جائے گی۔ مدھیہ پردیش میں ایم آئی ایم کور کمیٹی کے رکن قاضی سید انس علی ندوی کہتے ہیں کہ عوام نے ہم پر جو اعتبار کیا ہے وہ ہماری توقعات سے زیادہ ہے۔برہانپور میں ہمارا میئر امیدوار تیسرینمبر پر رہا ہے، لیکن برہانپور، جبلپور اورکھنڈوا میں ایم آئی ایم کے کونسلر عہدے کے چھ امیدوار کامیابی کی عبارت رقم کرنے میں کامیاب رہے۔
عوام نے ایم آئی ایم کو بی جے پی اور کانگریس کی مکر و فریب اور فرقہ پرستی کی سیاست کے جواب میں اتحاد اتفاق اور ترقیاتی کاموں کے لئے ووٹ دیا ہے۔ ہمارا نشانہ بلدیاتی انتخابات نہیں بلکہ اسمبلی انتخابات ہیںتاکہ مدھیہ پردیش میں ایسی حکومت قائم ہو، جو اقلیتوں، دلتوں، پسماندہ طبقات کے لوگوں کو انصاف دے سکے۔