مدھیہ پردیش میں حجاب پر تنازعہ پیدا کرنے والے بی جے پی کے تین کارکنوں کیخلاف مقدمہ درج

   

ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر پر سیاہی پھینکنے کا واقعہ، خانگی اسکول کے یونیفارم پر اعتراض
حیدرآباد ۔8 ۔ جون (سیاست نیوز) مدھیہ پردیش میں حجاب کے مسئلہ پر تنازعہ پیدا کرنے والے بی جے پی کے تین کارکنوں کے خلاف پولیس نے مقدمہ درج کرلیا۔ داموہ ضلع کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر پر بی جے پی کارکنوں نے سیاہی پھینک دی اور الزام عائد کیا کہ سرکاری عہدیدار ایک خانگی اسکول میں اسکارف کو یونیفارم کے حصہ کے طور پر شامل کرنے کی تائید کر رہے ہیں۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ایس کے مشرا جب آفس سے نکل رہے تھے، اس وقت بی جے پی کارکنوں نے ان پر سیاہی پھینک دی۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا میں وائرل ہوگیا۔ بی جے پی کے ضلع نائب صدر امیت بجاج نے سیاہی پھینکنے کی ذمہ داری قبول کرلی جبکہ مدھیہ پردیش بی جے پی کے صدر وی ڈی شرما نے اس واقعہ کی مذمت کی ہے ۔ محکمہ تعلیم نے گزشتہ ہفتہ گنگا جمنا ہائیر سکنڈری اسکول کی مسلمہ حیثیت کو ختم کردیا تھا۔طالبات جن میں ہندو لڑکیاں بھی شامل ہیں، انہیں اسکارف پہن کر تصویر میں دکھایا گیا اور اسے یونیفارم کا حصہ قرار دیا گیا تھا جس کے بعد محکمہ تعلیم نے کارروائی کی۔ اسکول کے کئی ہندو طالبات نے شکایت کی کہ انہیں حجاب پہننے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ ابتداء میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے اسکول کو کلین چٹ دی تاہم بعد میں ضلع کلکٹر نے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی۔ چیف منسٹر شیوراج سنگھ چوہان کی ہدایت پر کمیٹی قائم کی گئی ۔ ڈی او پر سیاہی پھینکنے کے بعد بی جے پی کارکنوں نے الزام عائد کیا کہ عہدیدار نے اسکول میں جاری غیر قانونی سرگرمیوں کی پردہ پوشی کی کوشش کی ہے ۔ ضلع بی جے پی صدر پریتم سنگھ لودھی نے مقامی بی جے پی کارکنوں کو وجہ نمائی نوٹس جاری کی ہے۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کی شکایت پر مقدمہ درج کیا گیا اور تین کارکنوں کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ سپرنٹنڈنٹ پولیس راکیش کمار سنگھ نے کہا کہ خاطیوں کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔سپرنٹنڈنٹ پولیس کے مطابق امیت بجاج ، ایم رائیکوار اور سندیپ شرما کے خلاف سرکاری عہدیدار کو فرائض کی انجام دہی سے روکنے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ۔ر