دیوالی کے موقع پر دیوی دیوتاؤں کے نام والے پٹاخے فروخت کرنے پر دوکانات جلادینے کا انتباہ
دیواس (مدھیہ پردیش) : مدھیہ پردیش کے دیواس ڈسٹرکٹ میں دیوالی کے موقع پر پٹاخے فروخت کرنے والے مسلم دوکانداروں کو دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ اگر اُنھوں نے ہندو دیوی دیوتاؤں کے نام والے پٹاخے اور آتش بازی کی دیگر اشیاء فروخت کیں تو اُنھیں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یاد رہے کہ قبل ازیں ہر سال دیوالی کے موقع پر کروڑہار وپیوں کی آتش بازی اشیاء خریدی جاتی تھیں اور اُن کا نام کون سے ہندو دیوی دیوتاؤں کے نام پر ہے، اس پر کوئی غور ہی نہیں کرتا تھا کیوں کہ پٹاخے فروخت کرنے والے اس کے ذمہ دار نہیں ہوتے تھے اور نہ ہیں۔ گزشتہ کچھ دنوں سے ایسے ویڈیوز منظر عام پر آرہے ہیں۔ جہاں کچھ لوگوں کو مسلم دوکانداروں کی دوکانات میں گھستے ہوئے دکھایا گیا جن میں سے کچھ نے زعفرانی رنگ کے کپڑے پہن رکھے ہیں یا زعفرانی رنگ کا اسکارف اُن کے گلے میں ہے۔ دوکانداروں کو ڈرایا دھمکایا جارہا ہے کہ اگر اُن کی (مسلم دوکاندار) دوکان سے کوئی لکشمی بم یا گنیش بم بھی فروخت ہوا تو سنگین نتائج کے لئے مسلم دوکاندار ذمہ دار ہوں گے۔ مسلم دوکانداروں کے پاس سوائے اس کے کوئی اور راستہ نہیں ہے کہ وہ وہاں آنے والے غنڈوں کی بات مانیں اور ہاتھ جوڑ کر اُن سے کہیں کہ آپ جیسا چاہتے ہیں ویسا ہی ہوگا، غصہ میں مت آیئے۔ جانے سے قبل اُن میں سے ایک نے فرانس میں توہین رسالتؐ کے کارٹونس شائع کرنے پر پوری دنیا کے مسلمانوں کی جانب سے احتجاج کرنے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ ہم خود بھی ایسی کوئی حرکت کرنا نہیں چاہتے۔ ہم ہر مذہب کا احترام کرتے ہیں۔ این آر سی کے خلاف احتجاج کے دوران مسلمانوں کی دوکانات زبردستی بند کروائی گئیں جو ایک حقیقت ہے۔
اُس نے کہاکہ اگر آپ لوگ (مسلمان) ملک کے خلاف ہیں تو پھر ہم بھی آپ کے خلاف ہیں۔ یہ سنتے ہی دوکاندار نے وعدہ کیاکہ ایسا کوئی کام نہیں ہوگا جس سے کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہو۔ ایسے ہی ایک دیگر ویڈیو کو جسے کانگریس قائد اور مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ ڈگ وجئے سنگھ نے ری ٹوئٹ کیا ہے، میں بتایا گیا ہے کہ کچھ لوگ زعفرانی اسکارف پہنے ہوئے ایک مسلم دوکاندار سے بحث و تکرار کررہے ہیں اور یہ دھمکی دے رہے ہیں کہ اگر کسی ہندو دیوی دیوتاؤں کی تصویر والے پٹاخے فروخت کئے گئے تو اس کی دوکان جلادی جائے گی حالانکہ دوکاندار اُن غنڈوں کو یہ باور کروانے کی بہت کوشش کرتا دکھائی دے رہا ہے کہ اُس کی دوکان سے ایسا کوئی متنازعہ پٹاخہ یا بم فروخت نہیں کیا جائے گا لیکن وہ اُس کی ایک نہیں سنتے اور دھمکاتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ دوکاندار یہ تک کہہ رہے ہیں کہ پٹاخے یا بم بنانا اُن کا کام نہیں ہے۔ یہ کام تو پٹاخہ ساز کمپنیاں کرتی ہیں اور ضروری نہیں کہ اُن کمپنیوں کے مالک مسلمان ہوں۔ ایسی کمپنیوں کے مالکین کی اکثریت ہندوؤں اور دیگر فرقے کے لوگوں کی ہے۔ اپنے ٹوئٹ میں ڈگ وجئے سنگھ نے ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ مسلمان دوکانداروں کو ڈرانے دھمکانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ دوسری طرف دیواس کے کلکٹر چندرامولی شکلا نے بتایا کہ خود اُنھوں نے بھی ویڈیوز دیکھے ہیں اور اس معاملہ کی تحقیقات کی جارہی ہے۔