سابق چیف منسٹرس ڈگ وجئے سنگھ‘ کمل ناتھ اور ریاست کے دیگر قائدین کیساتھ اجلاس ‘ اہم امور پر تبادلہ خیال
نئی دہلی : کرناٹک اسمبلی انتخاب میں جیت کے بعد اب آئندہ انتخاب کی تیاریوں کو لے کر کانگریس پارٹی کا آج ایک اجلاس منعقد ہوا ہے۔ دہلی میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے اور راہول گاندھی سمیت کئی سرکردہ لیڈران نے مدھیہ پردیش سے آئے قائدین سے ملاقات کی۔ اس اجلاس میں مدھیہ پردیش کے دو سابق وزرائے اعلیٰ کمل ناتھ اور دگ وجئے سنگھ بھی موجود تھے۔راہول گاندھی نے میٹنگ کے بعد کہا کہ ہم نے ابھی تفصیل سے بات چیت کی ہے۔ ہمارا داخلی جائزہ کہتا ہے کہ ہم نے جس طرح کرناٹک میں 136 سیٹوں پر جیت حاصل کی تھی، اسی طرح ہم مدھیہ پردیش میں 150 سے زیادہ سیٹوں پر جیت حاصل کریں گے۔ قابل ذکر ہے کہ مدھیہ پردیش میں اسمبلی کی 230 سیٹیں ہیں اور رواں سال ریاست میں اسمبلی انتخاب ہونا ہے۔بہرحال، میٹنگ کے بعد مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے سینئر لیڈر کمل ناتھ نے کہا کہ ریاست کے انتخاب میں تقریباً 4 ماہ بچے ہیں۔ میٹنگ میں مدھیہ پردیش کے مستقبل اور ریاست کے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ہم عوام کے مسائل کو دھیان میں رکھ کر انتخابی میدان میں اتریں گے۔کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے آج اس سال انتخابات ہونے والی ریاستوں کے قائدین اور کارکنوں کا اجلاس طلب کیا۔ راہول گاندھی اور کے سی وینوگوپال نے مدھیہ پردیش کے رہنماؤں کے ساتھ ایک اجلاس کی صدارت کی۔راہول گاندھی نے 29 مئی کو کہا کہ کانگریس کرناٹک انتخابی کارکردگی کو دہرائے گی اور مدھیہ پردیش میں اس سال کے آخر میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں بھی شاندار مظاہر ہ کرتے ہوئے کرناٹک کی جیت کو دہرائے گی ۔ مدھیہ پردیش اور راجستھان میں اس سال انتخابات ہونے والے ہیں ۔ راجستھان میں کانگریس کی ہی حکومت ہے لیکن وہاں چیف منسٹر اشوک گہلوٹ اور سابق ڈپٹی چیف منسٹر سچن پائلٹ کے درمیان زبردست اختلافات ہیں ۔ اطلاعات کے مطابق اجلاس میں راجستھان کے مسئلہ پر بھی غور و خوض کیا گیا۔مدھیہ پردیش میں کانگریس کی حکومت تھی لیکن جیوترادتیہ سندھیا اور ان کے حامیوں کی بغاوت کے بعد حکومت گر گئی تھی اور بی جے پی نے ریاست میں اقتدار سنبھال لیا تھا ۔ اب کانگریس کو امید ہے کہ وہ ریاست میں دوبارہ اقتدار حاصل کرئے گی اور 150سے زیادہ نشستوں پر کامیابی حاصل ہوگی ۔